سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 15 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 15

27 26 تک پوری طرح اسلام کے متعلق نہ جانتے تھے اور نہ ہی انہیں یہ پتہ تھا کہ خلافت کتنی حضرت عبیدہ کا نام پیش کیا تو ان دونوں نے کہا۔ابوبکر ! ” آپ مہاجروں میں سے بڑی چیز ہے اور ڈر تھا کہ یہ لوگ کسی انصاری کو خلیفہ نہیں مانیں گے۔پھر انصار میں سے سب سے بزرگ ہیں۔غار میں آپ دو میں سے دوسرے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ کسی آدمی نے کہا کہ دو خلیفہ بنا لیے جائیں۔ایک انصار میں سے اور ایک مہاجرین علیہ وسلم کی جگہ نماز پڑھاتے رہے ہیں اس لیے آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں ہم بیعت کریں میں سے۔اگر یہ بات مان لی جاتی تو اس طرح مسلمان ایک قوم نہ رہتے بلکہ دو قو میں گے۔بن کر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے۔اس لیے یہ تجویز بھی نا منظور کی گئی۔حضرت یہ سنتے ہی سارے لوگ بیعت کے لیے آگے بڑھے۔حضرت بشیر بن سعد ابو بکر نے انصار کو سمجھایا کہ دیکھو مہاجر وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ انصاری نے سب سے پہلے بیعت کی پھر حضرت عمر اور پھر حضرت ابو عبیدہ نے اور پھر وسلم کو اس وقت مانا تھا جب سارے ان کے دشمن تھے۔وہ آپ پر ایمان لائے۔انصار نے بیعت کی۔آپ کے ساتھ تکلیفیں اٹھائیں اور باوجود اس کے کہ وہ بہت تھوڑے تھے اور دشمن ان حضرت ابو بکر کو خلیفہ چنے کے بعد مسلمانوں کو تسلی ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے بہت زیادہ ، وہ حضور کے ساتھ رہے اس لیے خلیفہ ان میں سے ہونا چاہیے۔“ وسلم کو ابھی دفن کرنا تھا۔فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت عائشہ کے کمرے میں ہی جہاں آپ نے یہ بھی کہا:۔آپ فوت ہوئے تھے دفن کیا جائے۔چنانچہ وہاں قبر کھودی گئی اور آپ کو دفن کیا ”اے انصار! تمہاری بڑائی اور اسلام کی خدمت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔تمہیں گیا۔رسول اللہ کی وفات ایسا صدمہ تھا جس سے تمام مسلمان سخت گھبرائے اور خدا نے اپنے دین اور اپنے رسول کی خدمت کے لیے چنا اور اپنے رسول کو ہجرت کے پریشان ہو گئے تھے۔مدینہ میں بڑے بڑے لوگ بچوں کی طرح رو تے پھر رہے تھے بعد تمہارے پاس بھیجا۔تمہارا درجہ بہت بڑا ہے لیکن امیر مہاجرین میں سے ہو جو اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ایسے وقت میں حضرت ابوبکر کا اپنے ہوش میں رہنا تمہارے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہ کرے۔پھر حضرت عمررؓ اور حضرت ابو عبیدہ کی طرف اور مسلمانوں کو تسلی دینا۔انہیں اکٹھا رہنے کے لیے نصیحت کرنا یہ ایسی بات ہے جس اشارہ کرتے ہوئے کہا ان دونوں میں سے کسی ایک کو چن لو۔سے آپ کی عقلمندی ، مضبوط ارادے اور اچھے سردار اور لیڈر ہونے کا پتہ لگتا ہے۔آپ آپ کی تقریر سے ساری بات انصار کی سمجھ میں آگئی۔مہاجر چونکہ قریش کے قبیلہ کا سارے مسلمانوں سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق تھا۔آپ کی سے تعلق رکھتے تھے اور قریش کی سرداری کو پہلے ہی عرب کے سارے قبیلے مانتے تھے وفات کا صدمہ بھی سب سے زیادہ آپ ہی کو تھا۔مگر اتنے سخت صدمہ میں بھی آپ نے اس لیے یہ ڈر بھی نہ تھا کہ کوئی قبیلہ خلیفہ کو نہ مانے۔چنانچہ سارے انصار مہاجروں میں اپنے حواس قائم رکھے اور نہ صرف مسلمانوں کو تسلی دی، ان کا غم بٹایا بلکہ جو غلطی وہ سے خلیفہ چنے پر تیار ہو گئے۔جب حضرت ابو بکر نے خلافت کے لیے حضرت عمرؓ اور کرنے لگے تھے اس سے انہیں بچایا۔