سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 14
25 24 آپ کے فوت ہونے کا بہت زیادہ غم ہوا۔جس طرح باپ کے مرنے پر چھوٹے بات سننے کو تیار نہ تھے۔وہ پھر بھی بولتے رہے۔آخر حضرت ابو بکر کو بولنا پڑا۔آپ چھوٹے بچوں کا حال ہوتا ہے۔رسول اللہ کی وفات پر بڑے بڑے مسلمانوں کا وہی نے کہا:۔حال تھا۔مسلمانوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔کئی آدمی تو ماننے کو تیار ہی نہ لوگو سنو ! جو آدمی محمد کی عبادت کرتا تھا وہ سمجھ لے کہ محمد تو فوت ہو تھے کہ رسول اللہ فوت ہو گئے ہیں۔حضرت عمرؓ بڑے زبر دست آدمی تھے مگر اس وقت گئے ہیں۔ہاں جو اللہ کی عبادت کرتا تھا اس کا خدا زندہ ہے اور کبھی نہیں آپ کی یہ حالت ہوئی کہ تلوار نکال لی اور یہ کہنا شروع کر دیا: جو آدمی یہ کہے گا کہ رسول مرے گا۔“ اللہ فوت ہو چکے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔باقی لوگ بھی اسی طرح پریشان پھر رہے تھے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔رسول اللہ کی وفات کے وقت حضرت ابو بکر اپنے سیخ والے گھر میں تھے۔خبر سنتے ہی آپ گھوڑے پر سوار ہو کر حضور کے گھر آئے۔آپ نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں لوگ جمع ہیں اور حضرت عمر نگی تلوار لیے پھر رہے ہیں۔آپ نے کسی طرف توجہ نہ کی اور گھوڑے سے اتر کر سید ھے حضرت عائشہؓ کے کمرے میں گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر سورہ آل عمران کی آیت 145 وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔۔۔پڑھی جس کا مطلب ہے:۔محمد تو صرف ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے جتنے رسول یا نبی آئے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔تو کیا اگر محمد فوت ہو جائیں یا قتل ہو جا ئیں تو تم اسلام چھوڑ دو گے؟“ حضرت ابوبکر کی بات اور یہ آیت سُن کر لوگ ہوش میں آئے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں: ” مجھے یوں لگا کہ جس طرح یہ آیت ابھی ابھی اتری ہو۔میں سمجھ گیا کہ رسول اللہ واقعی فوت ہو گئے ہیں اور مجھے یوں لگا جیسے میرے پیر ٹوٹ گئے ہوں۔مجھ میں کھڑے رہنے کی طاقت بھی نہ رہی اور میں زمین پر گر گیا ابھی لوگ مسجد نبوی میں ہی تھے کہ کسی یہ کہ کر چادر اڑھائی اور باہر آئے۔دیکھا حضرت عمر نگی تلوار لیے کھڑے ہیں نے آکر بتایا کہ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہو کر مشورہ کر رہے ہیں کہ حضور کا اور سخت غصہ میں کہہ رہے ہیں۔" جو لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ فوت ہو چکے ہیں وہ جانشین کے بنا ئیں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ ادھر روانہ ہوئے۔راستے منافق ہیں۔آپ فوت نہیں ہوئے بلکہ کچھ دنوں کے لیے خدا کے پاس گئے ہیں اور پھر میں حضرت ابو عبیدہ بھی مل گئے۔تینوں انصار کے پاس پہنچے۔انصار کا خیال تھا کہ حضور واپس آئیں گے۔حضرت ابو بکر سمجھ گئے کہ عمر صدمے میں ایسی باتیں کر رہے ہیں۔کا جانشین یا خلیفہ ان میں سے ہو لیکن اس میں یہ مشکل تھی کہ عرب کے بہت سے لوگ آپ نے انہیں کہا: عمر سنبھلو اور ذرا چپ ہو جاؤا مگر اس وقت حضرت عمر کوئی بھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دنوں میں مسلمان ہوئے تھے ابھی کے چہرہ پر سے چادر اٹھا کر ماتھے پر پیار کیا۔روتے ہوئے کہنے لگے:۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ کی زندگی بھی بہت اچھی تھی اور پر زندگی اور وفات بھی بہت اچھی۔