سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 16
29 28 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے اگلے دن مسجد نبوی میں لوگ اکٹھے جارہی تھیں۔ان پر صعوبت اور خطرناک مصائب کا نقشہ آپ کی بیٹی حضرت عائشہ نے ہوئے۔جولوگ بیعت نہیں کر سکے تھے انہوں نے بیعت کی پھر آپ نے تقریر کی۔”اے لوگو! میں نے کبھی امیر نہیں بنا چاہا اور نہ امیر بننے کے لیے کبھی خدا سے دعا کی۔مجھے امیر بن کے کچھ خوشی بھی نہیں بلکہ یہ مجھ پر ایک ایسا بوجھ ہے جس کی طاقت مجھ میں نہیں ہے اور نہ یہ بوجھ خدا کی مدد کے بغیر اٹھایا جاسکتا ہے۔بہر حال میں تمہارا امیر بنا دیا گیا ہوں اور تم میں سے کوئی بہتر نہیں ہوں۔میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کرو۔اگر غلط کام کرنے لگوں تو مجھے بتاؤ۔سچ بولنا امانت کا ادا کرنا ہے اور جھوٹ بولنا خیانت ہے۔تم میں سے جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے۔جب تک میں اسے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ یوں کھینچا ہے۔آپ فرماتی ہیں:۔۔۔۔۔۔فَصُبَّتْ عَلَيْهِ مَصَائِبُ لَوُصُبَّتْ عَلَى الْجِبَالِ لَا نُهَدَّتْ وسَقَطَتْ وَانْكَسَرَتْ فِي الْحَالِ وہ مصائب جو میرے باپ پر خلیفہ بنتے ہی نازل ہوئے اگر وہ پہاڑوں پر پڑتے تو اسی لمحہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ان حالات میں خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کی مدد کی۔جیسا کہ اس کی سنت ہے کہ اپنے بندوں اور خلفاء کی وہ ایسے حالات میں خود تائید و نصرت کے لیے اس کا حق نہ دلا دوں اور جو تم میں سے طاقتور ہے وہ میری نگاہ میں کمزور گویا آسمان سے اتر کر آ جاتا ہے۔اُس نے حضرت ابوبکر کے ہاتھوں سے اس تمام ہے جب تک میں دوسروں کا حق اس سے نہ لے لوں۔“ خلیفہ بننے کے بعد آپ کو خلیفتہ الرسول کہا جانے لگا۔خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور خطرات کے بادل چھٹ گئے اور تھوڑے سے عرصہ میں اسلام کا کارواں پھر بڑی تیزی کے ساتھ رواں دواں ہو گیا۔آئیے دیکھتے حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنتے ہی اپنے سامنے مشکلات اور خطرات کا ایک پہاڑ نظر ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ خلافت میں کون کون سے اہم امور تھے جو آنے لگا ایک طرف ایسے جھوٹے مدعیان نبوت تھے جنہوں نے بغاوت کا علم بلند کیا سرانجام دیئے گئے۔ہوا تھا اور دوسری طرف ایسے مرتدین اسلام تھے جنہوں نے خلیفہ رسول سے کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا ہوا تھا، منکرین زکوۃ کی شورش الگ تھی اور ان کی مشکلات کے حضرت اسامہ بن زید کی مہم کی روانگی ساتھ ساتھ اسامہ بن زید کی مہم کی روانگی خود ایک مسئلہ تھا۔سب سے پہلا اہم معاملہ اس لشکر کی روانگی کا مرحلہ تھا جس کو آنحضرت صلی اللہ غرضیکہ چاروں طرف مصائب کی آندھیاں تھیں اور خطروں کے مہیب بادل تھے علیہ وسلم نے شام کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا تھا تا کہ غزوہ موتہ کے شہداء کا بدلہ لیا اور بغاوت کی طوفانی موجیں تھیں جو اسلام کی کشتی کو ایک منجدھار کی طرف دھکیلتی چلی جاسکے۔