سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 13
23 22 خدا نے اپنے ایک بندہ سے کہا کہ وہ دنیا اور خدا کے ساتھ میں سے کوئی ایک گھبرا گئے اور میدان میں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑے سے صحابہ رہ تھے کہ ایک دن مسجد میں آئے منبر پر بیٹھے اور تقریر کی۔فرمانے لگے:۔گئے۔ان میں ابو بکر، عمر علی ، عباس ، فضل بن عباس اور اسامہ بن زید اور ایمن شامل تھے۔حضرت عباس کے آواز دینے پر مسلمان دوبارہ اکٹھے ہوئے اور کافروں پر چن لے اور اس نے خدا کے ساتھ کو چن لیا ہے۔“ زبر دست حملہ کیا۔اس حملہ نے کافروں کو بھگا دیا۔غزوہ تبوک باقی لوگ تو چپ کر کے سنتے رہے ، یہ سمجھے ہی نہیں کہ آپ اپنا ذ کر کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اب آپ جلد فوت ہونے والے ہیں لیکن حضرت ابوبکر سمجھ گئے اور رونے لگے۔آپ نے ابو بکر کو تسلی دی۔پھر کہا ” مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں سب بند کر دو۔صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا ر۔ا رہنے دو۔ایک اور موقع پر کہا:۔66 66 کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے احسان مجھ پر ابو بکر سے زیادہ ہوں۔“ طبیعت کے زیادہ خراب ہونے پر حکم دیا کہ شروع میں آپ نے یہ واقعہ پڑھا ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے ایک جنگ کے موقع پر اپنا سارا مال چندہ میں دے دیا تھا۔یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے۔اس جنگ میں بھی حضرت ابوبکر رسول اللہ کے ساتھ تھے۔یہاں ایک مزیدار بات بھی ہوئی۔جب اس جنگ کے لیے رسول اللہ نے مسلمانوں کو چندہ دینے کے لیے کہا تو ان دنوں حضرت عمر کے پاس بہت سارے پیسے تھے۔آپ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ اس دفعہ تو میں ضرور ابوبکر سے چندہ دینے میں بڑھ جاؤں گا اور اس خیال سے آپ اپنا آدھا مال چنانچہ آپ کی وفات تک حضرت ابوبکر ہی امامت کرتے رہے۔ایک دن ابوبکر لائے اور رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیا۔آپ کہتے ہیں میں خوش خوش بیٹھا تھا کہ نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ اپنے کمرہ سے مسجد میں آئے۔حضرت ابو بکر کو پتہ لگا کہ آپ اتنے میں ابو بکر آئے اور اپنا سارا مال رسول اللہ کے آگے رکھ دیا۔اس دن میں نے آئے ہیں تو آپ پیچھے بہنے لگے۔آپ نے حضرت ابو بکر کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہا: نہیں۔سوچا کہ میں حضرت ابو بکر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔9ھ میں بہت سے مسلمان حج کے لیے روانہ ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سال حج پر نہ گئے۔آپ نے حضرت ابو بکر کو حج پر جانے والوں کا امیر بنایا۔ابو بکر کو کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ نماز پڑھاتے رہو۔اور خود حضرت ابو بکر کی دائیں طرف بیٹھ کر ساتھ نماز پڑھی۔مسجد سے واپس جا کر لیٹ گئے۔کچھ دیر طبیعت اچھی رہی۔حضرت عائشہؓ سے مسواک لے کر کی اور اس کے ساتھ ہی رفیق الاعلیٰ رفیق الاعلیٰ کہتے ہوئے وفات پا 10ھ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے گئے یہ آپ کا آخری حج تھا۔گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس دن 12 ربیع الاول کی تاریخ اور پیر کا دن تھا۔حضرت ابو بکڑ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے۔حج سے واپسی پر آپ بیمار ہوئے اور بیمار ہی مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت پیار کرتے تھے اس لیے سب کو