سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 12
21 20 ابو بکر کے پاس جا کر کہا کہ یہ معاہدہ نہیں ہونا چاہیے۔اس میں ہماری بے عزتی ہے۔سی فوج لے کر گئے۔وہاں سے کامیابی کے ساتھ واپس آئے اور اس کے بعد ( بنو حضرت ابو بکر نے سمجھایا کہ جو رسول اللہ کہہ رہے ہیں وہی ٹھیک ہے مگر انہیں تسلی نہ فزارہ) کے خلاف مسلمانوں کا ایک دستہ لے کر گئے۔ہوئی اور وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہنے لگے: کیا آپ اللہ کے بچے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم سچائی پر نہیں ہیں؟ پھر ہم یہ بے عزتی کیوں برداشت فتح مکہ کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ مجھے جو خدا کا حکم ہے میں وہی کر رہا ہوں۔حدیبیہ کا معاہدہ قریش نے جلد ہی توڑ دیا۔قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کا دوست تھا۔حضرت ابوبکر نے بھی سمجھایا اور کہا: "رسول اللہ خدا کے حکم کے مطابق کام کرتے رمضان 8ھ میں اس پر قبیلہ بنو بکر نے حملہ کر دیا۔بنو بکر کا قبیلہ قریش کا دوست تھا اس ہیں اور آپ جو کچھ بھی کرتے ہیں ، ہمارے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔“ لیے قریش نے ان کی مدد کی اور مُخزاعہ کے لوگوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔خزاعہ 66 آخر معاہدہ ہو گیا۔اس کی عبارت حضرت علیؓ نے لکھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والوں نے مسلمانوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ کے وسلم کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور کچھ اور صحابہؓ نے مطابق دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ 10 رمضان کو مدینہ سے چلے۔مکہ پہنچنے پر قریش دستخط کئے۔غزوہ خیبر نے ہار مان لی اور اس طرح بغیر لڑائی کے مکہ فتح ہو گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سارے لوگوں کو جو تیرہ سال تک آپ کو اور آپ کے ساتھی مسلمانوں کو تنگ کرتے ، حدیبیہ سے واپس آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک مہینہ ہی مدینہ میں ٹھہرے مارتے اور گالیاں دیتے رہے تھے، بغیر کوئی سزا دیے معاف کر دیا۔اس سفر میں بھی اور محرم کے چھ میں فوج لے کر خیبر گئے۔خیبر میں یہودی قبیلے آباد تھے۔بنو قینقاع اور حضرت ابو بکر آپ کے ساتھ تھے۔آپ کے والد ابوقحافہ اسی موقع پر مسلمان ہوئے۔بنوقریظہ کے ہارنے کے بعد سے خیبر کے یہودی بڑے سخت غصے میں تھے اور چھپ غزوہ حنین چھپ کر مسلمانوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔خیبر میں یہودیوں کے فتح مکہ کے بعد قریش تو مسلمان ہو گئے تھے لیکن ابھی تک عرب کے دوسرے قبیلے بہت سے قلعے تھے اور وہ قلعہ کے اندر بند ہو کر لڑے۔اس وجہ سے لڑائی لمبی چلی۔آخر کافر ہی تھے۔قبیلہ ہوازن اور ثقیف اور بعض دوسرے قبیلے ایک بڑی فوج لے کر صفر 27ھ میں خیبر فتح ہو گیا۔حضرت ابو بکر اس جنگ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر حملہ کے لیے چلے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ سے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے۔آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے ہوئے دس ہزار اور ملکہ کے دو ہزار آدمی ساتھ تھے۔ای سال حضرت ابو بکر، بنی کلاب جو مسلمانوں کے دشمن تھے، کے خلاف چھوٹی تھے۔حنین کی وادی میں لڑائی ہوئی۔کافروں کا حملہ اتنا سخت تھا کہ شروع میں مسلمان