سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 20
37 36 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول خدا نے فرمایا آج کوئی روزہ سے ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں۔پوچھا کہ کیا آج خدا کی راہ اگر میں ابوبکر کو نامزدکروں تو تم اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے نافذ کرنے میں قوی پاؤ گے اگر چہ وہ جسم کے ضعیف ہیں۔میں کسی نے صدقہ کیا ہے۔فرمایا میں نے۔پھر پوچھا کہ آج کسی کے جنازہ میں کوئی آپ نے خود خلافت پر متمکن ہوتے ہی جوسب سے پہلا خطبہ دیا اس میں فرمایا: شریک ہوا ہے۔پھر ابو بکر نے عرض کی حضور مجھے یہ موقع نصیب ہوا۔حضور نے فرمایا کہ کسی مسکین کو آج کسی نے کھانا کھلایا ہے۔ابو بکر نے عرض کی مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی۔اس پر رسول کریم نے فرمایا :- جس نے ان تمام نیکیوں کو جمع کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔تم میں سب سے زیادہ طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ اس سے لوگوں کا حق دلاؤں اور تمہارا کمزور ترین میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق واپس دلاؤں ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا حضرت ابو بکر تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے جنت کے مختلف دروازے ہوں گے جو خدا کی راہ میں مال خرچ کرے گا وہ مال والے اور آنحضرت کے قریب تر رہے جو شجاعت کی زندہ دلیل ہے۔دروازے سے بلایا جائے گا اور جو نماز کا پابند ہوگا وہ نماز والے دروازے سے بلایا حضرت علیؓ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ صحابہ میں سے سب زیادہ شجاع اور بہادر جائے گا اور جو جہاد کرتا ہے وہ جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے کا کون تھا تو آپ نے فرمایا ابوبکر اور بیان کیا کہ بدر کے دن جب ہم نے رسول کریم پابند تھا وہ سیرابی کے دروازے سے بلایا جائے گا یہ سن کر حضرب ابو بکر نے عرض کی یا کے لیے جھونپڑی بنائی تو سوال پیدا ہوا کہ حضور کے پاس کون رہے تو ابو بکر نے حامی رسول اللہ کوئی شخص ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا۔اس پر رسول اکرم نے بھری اور تلوار بے نیام کر کے حضور کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو گئے۔پس اُمجمع فرمایا ”ہاں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان سب دروازوں سے جو پکارے جائیں گے ان الناس ابوبکر تھے۔میں سے تم بھی ایک ہو“۔( بخاری ) شجاعت اسی جنگ بدر کا ایک اور واقعہ شجاعت کا پیش کرتا ہوں جو دراصل حقیقی شجاعت کہلانے کا مستحق ہے جنگ بدر میں مشرکین مکہ کے لشکر میں حضرت ابوبکر کے ایک صاحبزادے عبدالرحمن بھی تھے جو کفار کی طرف سے جنگ کر رہے تھے۔جب بعد میں حضرت ابوبکر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا ہے کہ ” صدیق وہ مسلمان ہوئے تو ایک روز کہنے لگے کہ:۔اکبر سب سے زیادہ بہادر صحابی تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابا ابدر کے دن آپ میری زد میں آئے تھے لیکن میں نے آپ