سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 19
35 34 یہاں تک کہ حضرت عثمان نے اپنے زمانہ خلافت میں اسی مدون نسخہ سے نقل زیادہ حقدار ہیں۔کر کے اس کی کاپیاں مختلف علاقوں میں تقسیم کروائیں۔وفات اس کے بعد پوچھا آج کون سا دن ہے؟ جواب دیا دوشنبہ۔پھر پوچھا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا ؟۔بتایا گیا کہ دوشنبہ کے روز۔اس پر فرمایا کہ ” میری آرزو ہے کہ آج کی رات ہی اس عالم فانی سے رخصت ہوں“ چنانچہ آپ حضرت ابو بکر کی خلافت کو ابھی سوا دو سال ہوئے تھے کہ آخری وقت آ پہنچا۔کی یہ آرزو بھی پوری ہوئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور معیت کا یہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک روز سخت سردی کے موسم میں حضرت ابو بکر نے غسل فرمایا، غسل فرمانے کے بعد بخار ہو گیا جو مسلسل پندرہ دن تک رہا۔حضرت ابوبکر نے اپنی بیماری کے دنوں میں حضرت عمرؓ کو امامت کے فرائض شوق بھی خدا نے قبول فرمایا اور 13ھ اواخر جمادی الاول کو تریسٹھ سال کی عمر میں آپ فوت ہوئے۔حضرت عمر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سرانجام دینے کے لیے کہا اور جب آپ نے یہ محسوس کیا کہ یہ بیماری جان لیوا ثابت نہ میں آپ دفن ہوئے۔ہو تو صحابہ کے مشورہ سے آپ نے حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین منتخب کیا اور حضرت عمرؓ کے انتخاب کا اعلان خود مجمع عام میں اس طرح فرمایا کہ: " میں نے اپنے عزیز یا بھائی کوخلیفہ مقرر نہیں کیا۔بلکہ اس کو منتخب کیا سیرت مبارکہ کی چند جھلکیاں کتاب کے آخر پر حضرت ابو بکر کی سیرت کی چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں۔ہے جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔تمام حاضرین نے اس ہر نیکی کے جامع حسنِ انتخاب پر سمعنا واطعنا کہا۔اس کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو بلا کر کچھ نصیحتیں فرمائیں“۔(طبقات ابن سعد ) سید نا حضرت ابو بکر صدیق نیکی کے ہر پہلو میں کامل اور ہر نیکی پر حریص تھے۔اس کے بعد حضرت عائشہ کو اپنے ذاتی اور خانگی معاملات کے بارے میں کچھ نماز ہو یا انفاق فی سبیل اللہ ، خدمتِ خلق ہو یا بنی نوع انسان کی ہمدردی ، شجاعت وصیت کی اور پھر اپنی تجہیز و تکفین کے متعلق فرمایا کہ دیکھو اس وقت جو کپڑے میرے و جوانمردی ہو یا رافت و حلم۔آپ کی سیرت ایک ایسے چمن کے مشابہ تھی جس میں بدن پر ہیں انہیں کو دھو کر دوسرے کپڑوں کے ساتھ مجھے کفن دینا' حضرت عائشہؓ نے گلہائے رنگا رنگ کی ایک بہار ہے جو عالم روحانیت کو اپنی جانفزا مہک سے معطر کیے فرمایا کہ یہ تو پرانے ہیں۔اس پر فرمایا جان پدر امر دوں کی نسبت نئے کپڑوں کے زندہ دیتی ہے۔