سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 21
39 38 پر وار نہ کیا۔اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ بیٹا اگر تو میری زد میں اس روز آ جاتا تو میں تجھے نہ چھوڑتا“ یہ ہے حقیقی شجاعت کہ خدا کے دین کے آگے کوئی رشتہ اور کوئی تعلق آڑے نہیں آ سکتا۔توحید سے پیار اسلام کا سب سے پہلا درس خدا کی توحید کا اقرار تھا کہ اس کائنات کا خالق وہ حضرت عمرؓ تلوار لہرا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو کہے گا رسول کریم وفات پاگئے ہیں اس کا سر قلم کر دوں گا۔فرمایا عمرزا مظہر جا اور اعلان کیا کہ : جو محمد کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد فوت ہو چکے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھاوہ جان لے کہ خدا زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔اللہ نے فرمایا محمد ایک رسول ہیں آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔( بخاری ) واحد خدا ہے کہ جس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں۔اس کے سوا ہر چیز کو فنا رسول اکرم سے محبت ہے اور اسے کوئی زوال نہیں۔آنحضرت نے فرمایا ہے کہ: سید نا حضرت ابوبکر نے توحید کا جو سبق امت محمدیہ کو دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھنے کے قابل ہے۔آنحضرت کی وفات کی خبر جب حضرت ابو بکر کو پہنچی تو آپ حضرت عائشہ کے گھر آئے حضور کے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھایا اور کہا انا لله وانا اليه راجعون۔اللہ کی قسم وفات پاگئے اور کہا ہائے نبی اور جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا۔پھر مسیح موعود علیہ والسلام نے فرمایا کہ: سر اٹھایا اور کہا ہائے میرا دوست رخصت ہوا پھر سر جھکایا اور پیشانی کو بوسہ دیا۔پھرسر ابوبکر شسید کونین کی محبت میں فنا ہو چکے تھے“ اٹھایا اور کہا ہائے خدا کا برگزیدہ پھر جھکے اور پیشانی پر بوسہ دیا پھر کپڑا چہرہ مبارک پر ڈال دیا۔(طبقات ابن سعد ذ کر تقبیل ابی بکر الصدیق رسول الله بعد وفاته ) اس وقت تک ایمان کا دعویٰ عبث ہے جب تک میں کسی کو اس کے والدین اس کی اولا د اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں حضرت ابوبکر خدا کے بعد نبی اکرم سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔حضرت سر الخلافه ، روحانی خزائن جلد نمبر ۸ صفحه۳۳۹) اور اسی فنافی الرسول کے مرتبہ کو سیرت صدیقی قرار دیا۔گویا محبت رسول کا آخری پھر فرمایا آپ کی زندگی کیا ہی اچھی تھی اور موت بھی کیا ہی اچھی تھی۔آنکھوں مقام صدیقیت کا مقام ہے۔یہ خدا اور اس کے رسول کی محبت ہی تھی کہ جب اپنا بیٹا سے آنسو رواں ہو گئے اور کہا ” میرے ماں باپ آپ پر قربان اللہ کی قسم اللہ آپ پر دو جنگ میں مد مقابل آتا ہے تو وہ سب دنیاوی رشتے ختم ہو جاتے ہیں اور اس کو کہتے موتیں جمع نہیں کرے گا۔اس کے بعد باہر تشریف لائے مسجد نبوی میں پہنچے جہاں ہیں کہ تم اگر میری تلوار کے نیچے ہوتے تو بھی بیچ کر نہ جاتے"