سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 22
39 38 گئے۔حضرت عمرؓ کی ہدایات کے مطابق یزید بن ابی سفیان کو قیساریہ جا کر دوبارہ بندرگاہ کا محاصرہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تھا۔عمر و بن العاص اور شر خبیل بن حسنہ کو فلسطین اور اردن پر از سر نو قبضہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔میں اور خالد بن ولید سترہ ہزار فوج لے کر بیت المقدس سے شام کے شمال میں فتوحات کے لئے روانہ ہو گئے۔فسرین کی فتح انطاکیہ کی فتح اگلا معرکہ انطاکیہ میں ہوا۔12 میں پہلے محروبہ میں ہمارا مقابلہ پھر ایک زبر دست رومی لشکر سے ہوا۔اجنادین اور یرموک کے علاوہ یہاں بھی رومیوں کا بے حد نقصان ہوا۔رومی فوج بھاگ گئی۔مسلمانوں نے بڑھ کر انطاکیہ کا محاصرہ کر لیا اور کچھ ہی دن بعد شام کے اس سب سے بڑے شہر نے جو مشرقی شہنشاہی روم کے ایشیائی حصہ کا صدر مقام تھا ہمارے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔میں جابیہ سے دمشق گیا جواب مسلمانوں کے قبضے میں تھا اور وہاں سے شوال سنہ 16ھ (مطابق 30 اکتوبر 637 ء) کو میں فاتح بن کر انطاکیہ میں حمص پہنچا۔حمص والوں نے میرا خیر مقدم کیا۔میری اگلی منزل قسرین تھی۔داخل ہوا اور رومی فوج کو امن کے ساتھ رخصت ہونے کی اجازت دے دی۔خصت ہونے کی اجاز خالد بن ولید کے ہر اول دستے کے ساتھ رومیوں نے قنسرین سے تین رومیوں کی آخری کوشش میل مشرق کی طرف جنگ کی اور بُری طرح شکست کھائی۔جہاں سے وہ قنسرین پہنچے۔قنسرین والے قلعہ بند ہو گئے اور بالا آخر جمادی الاول سنہ فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔تاہم قیساریہ کی بندرگاہ پر ابھی محاصرہ 16ھ (مطابق جون 637 ء ) میں ہتھیار ڈال دیئے۔میری ملاقات خالد بن ولید سے قنسرین میں ہوئی۔حلب کی فتح سولہویں ہجری سال (مطابق 637 ء کے آخر تک سارا شام اور جاری تھا۔حضرت عمرؓ کی ہدایت کے مطابق عمرو بن العاص کو فلسطین کا حاکم بنا کر مقرر کیا گیا۔شمر خبیل بن حسنہ کو اردن کا یزید بن ابی سفیان کو دمشق کا حکم مقرر قنسرین سے میں اور خالد بن ولید حلب کی طرف روانہ ہوئے۔حلب والے کیا گیا اور مجھے حمص کا حکمران مقرر کیا گیا۔خالد بن ولید میرے ماتحت قنسرین بھی قلعہ بند ہو گئے۔ہم نے حلب کا محاصرہ کر لیا۔چار ماہ بعد رومیوں نے ہتھیار کے عامل مقرر ہوئے۔ڈال دیئے اور امن و امان سے رخصت ہو گئے۔ان کے سپہ سالار یوقنہ نے جانے سے انکار کردیا اور اسلام قبول کر کے اسلامی جھنڈے تلے لڑنا پسند کیا۔چند ماہ بعد سنہ 17 ھ میں شمالی شام کے علاقہ میں پھر جنگ کے بادل امڈ آئے۔اسلامی فوج حمص میں اکٹھی کر لی گئی۔عیسائیوں نے حمص پر دوبارہ