سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 23
41 40 لشکر کشی کی لیکن ناکام ہوئے۔اس معرکے میں جزیرے کے لوگ رومی افواج دوسروں کو کھانا کھلاتے تھے حتی کہ یہ مصیبت ٹل گئی۔میں شامل تھے۔مصر اور شام کے عیسائی لشکروں کے ساتھ شام کے علاقوں کی طاعون عمواس واپسی کے لئے قصیر روم کی یہ آخری کوشش تھی۔محرم سنہ 18ھ ( مطابق جنوری 639ء) میں عمو اس کے مقام پر طاعون حمص کے مقام پر خون ریز جنگ ہوئی اور رومیوں کو شکست فاش ہوئی۔کی وبا پھوٹ پڑی۔عمواس فلسطین کا ایک قصبہ تھا۔شام اور فلسطین کے یہ میرا بھی آخری معرکہ تھا جو بطور سپہ سالا را عظم مجھے پیش آیا۔اشاعت اسلام اور نو مبایعین کی تعلیم و تربیت علاقے اس کی زد میں آگئے۔حضرت عمرؓ کو بہت تشویش ہوئی۔وہ بذات خود شام تشریف لائے تا کہ شام کی فتح کے بعد شام کے باشندوں کو مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا مشورہ کر کے اس وبا سے بچنے کے لئے کوئی اقدامات کریں۔آپ مقام سُرع موقع ملا۔اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر وہ جوق در جوق اسلام میں داخل پر پہنچے۔ادھر و با کا زور بڑھتا جارہا تھا۔آپ کو صحابہ نے واپس مدینے چلے ہوئے۔کسی ایک شخص کو بھی زبر دستی مسلمان نہیں بنایا گیا۔میں نے اس امر کا بھی خیال رکھا کہ اسلام کی اشاعت کے ساتھ ساتھ نو مبایعین کی تعلیم و تربیت بھی ہوتی رہے۔جانے کا مشورہ دیا۔حضرت عمرؓ نے مجھے طاعون زدہ علاقے کو چھوڑ کر مدینہ آنے کی اجازت دے دی لیکن میں نے اپنی افواج کے ساتھ ہی رہنا پسند کیا۔مدینہ پہنچ کر آپ چنانچہ مفتوحہ شہروں میں درس قائم ہوئے جن میں نو مہا بعین کو قرآن نے مجھے لشکر کوکسی کھلی فضا میں لے جانے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ میں لشکر اسلام کریم کی تعلیم دینے اور فقہ کے مسائل حل کرنے کا انتظام کیا گیا۔عام التر ماده سنہ 18ھ میں مدینہ میں سخت قحط پھوٹ پڑا۔یہ حضرت عمر کی خلافت کا کو لے کر جابیہ کے مقام پر منتقل ہو گیا۔امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی وفات بچو! ابھی آپ نے امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی آپ بیتی پانچواں سال تھا۔حضرت عمرؓ نے بڑی حکمت سے اقدام کئے میں غلے سے سنی۔اب ہم ان کی وفات اور سیرت و کردار کے بارے میں آپ کو بتائیں لدے ہوئے چار ہزار اونٹ لے کر دربار خلافت میں جا حاضر ہوا۔حضرت عمر گے۔اگر چہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اسلامی فوج کو لے کر جابیہ چلے آئے نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔حضرت عمرہ کی اپنی یہ حالت تھی کہ خود بھوکے رہ کر تھے لیکن وہ وبا جو عمواس سے شروع ہوئی تھی اس نے جابیہ تک ان کا پیچھا کیا۔