سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 21 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 21

37 36 روانہ کیا اور باقی فوج کے ساتھ خود ایک ماہ تک یرموک کے پاس جاہیہ میں رہا بڑے پادری سے ملاقات کی اور معاہدہ کیا۔اور کچھ انتظامی امور نمٹائے۔آخر شعبان سنہ 15ھ (مطابق اکتوبر 636ء) عیسائی پادری اس عظیم خلیفہ اور حکمران کی سادگی پر حیرت زدہ ہو گیا۔میں فوجی مشاورت بلائی اور بیت المقدس اور قیساریہ کی فتح کے بارے میں حضرت عمر کی بیت المقدس میں آمد ایک عظیم واقعہ تھا۔مسلم افواج نے آپ مشورہ کیا اور شوری کی کاروائی منظوری اور احکامات جاری کرنے کے لئے کو دیکھ کر خوشیاں منائیں۔حضرت عمرؓ کے ساتھ بلال بھی تھے جو خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق کی خدمت میں بھجوائی۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں مسجد نبوی میں اذان دیا کرتے تھے اور حضرت عمرؓ کی طرف سے بیت المقدس کو فتح کرنے کی اجازت مل گئی۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد پھر انہوں نے کبھی اذان نہ دی تھی۔یہاں میں فوج لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوا۔خالد بن الولید کو ان کے صحابہ نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت بلال اذان دیں۔متحرک ہر اول دستے سمیت روانہ کر دیا گیا۔رومی محافظ فوج قلعہ بند ہوگئی۔حضرت عمرؓ کے ارشاد پر بلال نے اذان دی۔مسلمانوں کے خیالوں میں چار ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔بالآخر بیت المقدس کے بڑے پادری آنحضرت ﷺ کا زمانہ سامنے آ گیا۔اکثر آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل (بطریق) نے ہتھیار ڈالنے اور جزیہ دینے کی اس شرط کے ساتھ پیشکش کی کہ خلیفہ وقت حضرت عمر خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے آئیں۔الله رسول اللہ ﷺ کی یاد میں تڑپ اٹھے۔حضرت عمر اور بطریق کے درمیان معاہدے میں معمولی جزیہ کے بدلے حضرت عمرؓ پہلے جابیہ آئے جہاں میں نے خالد بن ولید اور یزید بن ابی رومیوں کے مال و جان اور مذہب اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری سفیان وغیرہ کو ساتھ لے کر حضرت عمر کا استقبال کیا۔عمرو بن العا کرنے والے فوجی دستے کی قیادت کر رہے تھے۔قبول کی گئی۔معاہدے پر خالد بن ولید عمرو بن العاص، عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان نے بطور گواہ دستخط کئے۔یہ معاہدہ ربیع الاول سنہ حضرت عمر نہایت سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے۔ہم نے ان کی خدمت 16ھ (مطابق اپریل 637ء) کو ہوا۔میں کپڑوں کا ایک قیمتی جوڑا اور ایک ترکی گھوڑا پیش کیا۔آپ نے وہ کپڑے پہن لئے اور گھوڑے پر سوار ہو گئے لیکن تھوڑی دور جا کر گھوڑے سے اتر حضرت عمر کا شام کے مفتوحہ علاقوں کا دورہ بیت المقدس میں دس دن قیام کے بعد حضرت عمر نے شام کے فتح کئے بیٹھے۔فرمایا میرا وہی لباس اور اونٹ لاؤ۔ہمیں جو اسلام کی عزت ملی ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے۔چنانچہ آپ نے سادہ لباس میں بیت المقدس کے ہوئے بعض علاقوں کا دورہ فرمایا ہدایات دیں اور مدینہ واپس تشریف لے 7777