سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 19
33 32 میں اکٹھی کر لیں جس میں بارہ قوموں کے بہادر سپاہی شامل تھے جن میں امر کی اطلاع میں نے حضرت عمر کولکھ کر بھجوائی کہ اسلامی لشکر دریائے یرموک امراء شہزادے اور بڑے بڑے پادری بھی تھے۔کے درمیان جولان کے قریب متعین ہے۔اس دوران ہرقل کی فوج بھی ہماری فوج چار حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔شمالی شام میں تقمص کے مقام نہایت شان و شوکت سے پہنچ گئی رومی فوجوں کے درمیان عیسائی پادری پر میں اور خالد بن ولید تھے۔فلسطین میں عمرو بن العاص تھے۔اردن میں کھڑے صلیبیں لہرا ر ہے تھے اور رومی فوج پوری طرح مسلح تھی۔شر خبیل بن حسنہ اور قیساریہ میں یزید بن ابی سفیان تھے۔حضرت عمر کی بھجوائی ہوئی کمک بھی پہنچ گئی اور ہماری کل تعداد چالیس ہزار ہمیں جب دشمن کی افواج کی اطلاع ملی تو میں نے خالد بن ولید اور ہوگئی تاہم رومی فوج ڈیڑھ سے دو لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔میں نے اسلامی فوج دوسرے سپہ سالاروں سے مشورہ کیا اور یہ طے ہوا کہ سارے اسلامی لشکروں کے محاذ کے پیچھے ان دستوں کے بیوی بچوں کو رکھا اور انہیں نصیحت کی کہ اگر کوئی کو دمشق میں جمع کیا جائے اور عرب کی سرحد کے قریب مقابلہ کیا جائے۔مسلمان سپاہی بھاگ کر پیچھے آئے تو عورتیں میموں کے بانس اور پھر لے کر ان جب ہر قل کی جنگی تیاریوں کی خبر ملی تو اردن کے بعض علاقوں نے بغاوت کی مرمت کریں اس وقت اسلام پر بہت نازک وقت تھا ہم تعداد میں بہت کم کر دی میں نے ان سب واقعات کی اطلاع حضرت عمر کی خدمت میں پہنچائی تھے۔نہ ہمارے پاس اسلحہ تھا نہ راشن اور نہ ہی سواریاں اور نہ ہی سپاہیوں کے اور مدد اور دعا کی درخواست کی حضرت عمر نے پیغام بھیجا کہ اسلامی فوجیں پاس با قاعدہ وردیاں تھیں جب کہ دشمن کے پاس سب کچھ تھا اور بظاہر ہمارے بچنے کی امید نہ تھی۔لیکن ہمارے دل ایمان سے بھرے ہوئے تھے اور آنحضرت ہ نے اسلامی افواج کی فتوحات کی جو پیش خبریاں بتائی ہوئی تھیں ان پر ہمیں ثابت قدم رہیں۔نیز اطمینان دلایا کہ امدادی فوج یعنی کمک آ رہی ہے۔حمص کو چھوڑنے سے پہلے میں نے ان سے لیا ہوا جزیہ واپس کرنے کا حکم دیا کیونکہ جنگ کے دوران ہم ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔اس کی وجہ پورا یقین تھا۔آنحضرت ﷺ کو غزوہ خندق کے دوران ایک پتھر توڑتے ہوئے سے وہ لوگ اسلامی تعلیمات سے بہت متاثر ہوئے اور ان کی دعائیں بھی ایک کشفی نظارہ دکھایا گیا تھا۔آپ کو قیصر و کسریٰ کی مسلمانوں کے ہاتھوں تباہی ہمارے شامل حال ہو گئیں۔جب دمشق کے پاس تمام اسلامی لشکر اکٹھے اور اسلام کی غیر معمولی ترقیات کی خبریں دی جاچکی تھیں اس لئے ہمیں اپنی ہو گئے تو میں نے جنگ کا منصوبہ بنانے کا کام خالد بن ولید کے سپرد کیا وہ جنگی کمزوری کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل بھروسہ تھا۔حکمت عملی میں ہم سب سے زیادہ ماہر تھے۔منصوبے کے مطابق اسلامی فوج چنانچہ جنگ ہوئی اور بڑے گھمسان کا رن پڑا۔رومی دستوں کا ایک حصہ کو جابیہ اور دریائے یرموک کے درمیان گیارہ میل لمبے محاذ پر پھیلا دیا گیا اس تھکتا تو دوسرا تازہ دم آگے آجاتا پھر تیسرا آتا اور ہمارا وہی دستہ ان سب کا