سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 20
35 34 مقابلہ کرتا۔مسلمانوں نے اپنے وجودوں کو وہ قوت اور برداشت دکھانے پر کے مسلمان بچوں کو پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیا وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے جوتیوں کی جگہ مجبور کیا جن کے لئے انسانی جسم بنائے ہی نہیں گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری تک جا پہنچے۔ایک وہ وقت تھا کہ یہی حبشی ان کے آباؤ اجداد کے غلام تھے اور غیر معمولی نصرت فرمائی اور ہمیں معجزانہ طور پر فتح نصیب ہوئی اس جنگ میں آج یہ وقت آیا کہ ان کے مقابلے پر رؤساء قریش کی کوئی قدرو قیمت نہ تھی۔ستر ہزار رومی مارے گئے اسی ہزار بھاگ گئے مسلمان شہدا کی تعداد چار ہزار بعد میں انہوں نے حضرت عمر سے اپنی خاندانی عزتوں کے بحال ہونے کی تھی۔قیصر روم بھاگ کر قسطنطنیہ چلا گیا۔ترکیب پوچھی۔حضرت عمرؓ جو ان کی خاندانی وجاہتوں سے پوری طرح باخبر جنگ یرموک اسلام کی ایک شاندار فتح تھی اس جنگ میں قریش کے کئی تھے اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے آپ نے نامور خاندانوں کے نو جوانوں کو بھی جوہر دکھانے کا موقع ملا جو اپنی عزت ان قریش زادوں کو شام کے جہاد پر شامل ہونے کا اشارہ کیا۔چنانچہ یہ لوگ بحال کرنے کے لئے حضرت عمرؓ کی تحریک پر اس جنگ میں شامل ہوئے تھے۔امدادی فوج میں شامل ہو کر میرے پاس آئے اور جنگ یرموک میں شریک اور سارے کے سارے نہایت بہادری سے لڑ کر شہید ہو گئے ایسے لوگوں میں ہوئے اور اتنی بہادری سے لڑے کہ ہزاروں دشمنوں کو مار کر خود بھی اسی میدان ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی شامل تھا۔جو فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا تھا۔جنگ میں شہید ہوئے اور اس طرح اسلام نے ایک بار پھر ان کے خاندانوں مجھے بتایا گیا کہ جب میں نے حضرت عمرؓ کو امدادی فوج بھیجوانے کے کی عزتیں بحال کر دیں۔۔لئے لکھا تو اس سے پہلے دربار خلافت میں ایک عجیب واقعہ ہو چکا تھا۔رؤسا یرموک کی فتح کے بعد میں نے ایک وفد حضرت عمرؓ کے پاس مدینہ میں مکہ کی اولاد میں سے کچھ نو مسلم حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس اطلاع دینے کے لئے بھیجا۔حضرت عمر بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔کئی دوران کچھ حبشی غلام آئے۔جنہیں ابتدائے اسلام میں ہی رسول اللہ پر ایمان راتیں آپ نے جاگ کر اور ساری ساری رات دعا ئیں کر کے گزاری تھیں۔لانے کی سعادت نصیب ہو چکی تھی۔اور اسلام کی خاطر انہوں نے بڑی مسلمانوں کی فتح کی خبر سن کر آپ سجدے میں گر گئے اور مدینہ کی فضاء اللہ ا مصیبتیں برداشت کی تھیں کسی کو تپتی ریت پر مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور کسی کو کے نعروں سے گونج اٹھی۔دیکھتے کوئلوں پر لٹایا گیا اور کسی کو مار مار کر بالکان کیا گیا لیکن ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی۔وہ اب اسلام میں سب سے زیادہ باعزت لوگ تھے اور بیت المقدس کی فتح رسول اللہ کے خاص صحابہ میں سے تھے ان کی آمد پر حضرت عمر نے رؤسا مکہ یرموک کی فتح کے بعد میں نے ایک دستے کو دمشق پر قبضہ کرنے کے لئے