سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 18
31 30 میں نے خالد بن الولید کو ان کی فوج کے ساتھ سیدھا حمص روانہ کر دیا اور خود رومی فوج اسلامی فوج کے ایک دستے کو عراق جاتے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بعلبک کی طرف پیش قدمی کی۔بعلبک کے قلعہ بند دستے نے بالکل پر امن طور انہیں یقین ہو گیا کہ باقی اسلامی فوج کو وہ شکست دینے کے قابل ہو جائیں پر ہتھیار ڈال دیئے جہاں سے میں حمص پہنچا۔خالد بن الولید پہلے ہی حمص کا گے۔کیونکہ اب اسلامی دستوں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔محاصرہ کر چکے تھے میرے پہنچنے پرچمص والوں نے امن کے معاہدے کی پیشکش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد فرمائی مسلمان افواج کی ہمت اور خالد بن ولید کی جسے منظور کر لیا گیا۔معاہدہ ہوتے ہی حمص شہر کے دروازے کھول دیئے گئے۔جنگی حکمت عملی کے آگے رومیوں کے منصوبے خاک میں مل گئے۔اور مسلمانوں اہل قنسرین نے بھی اسی قسم کے معاہدے کی پیشکش کی اور دونوں نے ہر اس فوج کو شکست دی جو ہر قل کی طرف سے امداد کے طور پر بھیجی گئی۔معاہدوں کے مطابق حمص اور قنسرین پر حملہ ایک سال کے لئے ملتوی کر دیا گیا چنا نچہ تمص والوں نے بالاخر ہتھیار ڈال دیئے۔حمص فتح ہوا تو حماۃ شیز راور اصل میں حمص اور قنسرین کے رومی حکمرانوں نے یہ معاہدے مسلمانوں کے مرة النعمان نے بھی یکے بعد دیگرے اطاعت قبول کر لی۔لاذقیہ بھی ایک معمولی فوری حملے کو ٹالنے کے لئے کئے تھے۔ورنہ ان کا خیال تھا کہ ہر قل جلد ان کو سی مہم کے بعد فتح ہو گیا جس کی سرداری میں خود کر رہا تھا۔یہاں سے ہم مزید شمال امدادی فوج بھیج دے گا جس سے وہ مسلمانوں کا مقابلہ کرسکیں گے۔تاہم شام کی طرف بڑھے اور ہرقل کے پایہ تخت انطاکیہ فتح کرنے کا ارادہ کیا۔کے شمالی علاقوں میں مسلمانوں کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا اور میری تقسیم کی ہوئی فوج نے شمال میں حلب تک سفر کیا اور ہر جگہ فتح حاصل کی شام کے ان علاقوں تیاری کر کے ایک عظیم اور فیصلہ کن جنگ ہم سے لڑنا چاہتا تھا اور اس وجہ سے لیکن حضرت عمر نے اس کی اجازت نہ دی۔دراصل ہر قل بہت بھاری شام میں مزید پیش قدمی روک دی گئی اور ہم واپس حمص آگئے۔میں یہاں کے شہریوں نے بڑے پیمانے پر اسلام قبول کیا۔ادھر ہر قل نے امدادی افواج حمص کی طرف بھیجیں جن کے پہنچنے پر حمص اور قنسرین والوں نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو حمص کا جنگ یرموک دوبارہ محاصرہ کرنا پڑ سخت سردی کا موسم تھا۔لیکن اسلامی لشکروں نے ہمت نہ قیصر روم ہر قل کو ہماری پے در پے فتوحات سے بہت غصہ آیا اس نے ہاری۔اس دوران محرم سنہ 15ھ (مطابق مارچ 636ء میں حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ اپنے زیر تسلط تمام ممالک کی بہادر ترین فوجیں شام میں اکٹھی خالد بن ولید کے دستے کو جو عراق سے شام ان کے ساتھ آیا تھا واپس عراق کر کے مسلمانوں کو واپس عرب میں دھکیل دے۔چنانچہ ہرقل نے قسطنطنیہ سعد بن ابی وقاص کے پاس بھیجنے کا حکم دیا۔حضرت عمرؓ کے حکم کی تعمیل کی گئی۔الجزیرہ آرمینیہ وغیرہ سے ایک لاکھ پچاس ہزار کی تعداد میں افواج انطاکیہ