سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 15 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 15

25 24 ایک قلعہ نما شہر تھا۔جس کی فصیل 35 فٹ بلند تھی شہر میں داخل ہونے کے تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہتے۔حتی کہ خالد بن الولید شرقی جانب سے خندق لئے چھ دروازے تھے۔فصیل کے باہر گہری اور کافی چوڑی پانی سے بھری ہوئی پار کر کے فصیل پر چڑھ کر قلعے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے شرقی پھاٹک کے محافظوں کو قتل کر کے پھاٹک کھول دیا اور بلند آواز خندق تھی۔اجنادین میں رومیوں کی شکست فاش کے بعد ہم دمشق کی طرف بڑھے سے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے فوج قلعے کے اندر داخل ہو گئی۔دمشق اور محاصرہ کر لیا ایک دو مقامات پر رومیوں نے ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی والے اس اچانک حملے کی تاب نہ لا سکے۔انہوں نے قلعے کے سب دروازے لیکن شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے۔کھول دیئے۔اس طرح 19 رجب سنہ 13ھ (مطابق 18 دسمبر 634ء) کو ہر قل کی بیٹی قلعہ دمشق میں رہتی تھی اور ہر قل کا داماد تو مارومی فوج کا سپہ دمشق فتح ہو گیا۔تو مانے میرے ساتھ امن کا معاہدہ کرنے اور جزیہ ادا کرنے سالار تھا۔دمشق میں رومی فوج کی تعداد ہزاروں میں تھی ہر قل نے انطاکیہ کی پیشکش کی جسے میں نے قبول کر لیا۔ایک طرف سے خالد بن الولید کی فوج سے پانچ ہزار کی کمک بھجوائی جس کے سالا رکلوسی نے ہر قل سے وعدہ کیا کہ وہ اور دوسری طرف سے میری فوج دمشق میں داخل ہوئی اور ہماری ملاقات شہر اسلامی سپہ سالار کا سر نیزہ پر رکھ لائے گا۔لیکن اس امدادی فوج کو مسلمانوں کے وسط میں ہوئی۔اس کے بعد باقاعدہ معاہدہ لکھا گیا۔جس پر خالد بن الولید نے بھی دستخط کئے۔اہل دمشق کو تین دن کی مہلت دی گئی کہ وہ امن و نے رستے ہی میں روک لیا۔خالد بن الولید قلعہ کے مشرقی دروازہ کی طرف تھے۔میں مغربی امان کے ساتھ سارا مال و متاع لے کر دمشق سے نکل جائیں۔دروازے کی طرف تھا۔شمال کی طرف شر خبیل اور عمرو بن العاص تھے اور خالد بن ولید نے جس ترکیب سے فصیل پھلانگ کر شرقی پھاٹک کھولا وہ جنوب میں یزید بن ابی سفیان اپنے اپنے دستے لے کر موجود تھے۔ضرار دو دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔انہیں ایک روز معلوم ہوا کہ دمشق کے بڑے پادری ہزار سواروں کے متحرک دستے کے ساتھ رات کو قلعے کے دروازوں کے (بطریق دمشق) کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔جس کی خوشی میں رات کو جشن منایا درمیان خالی حصوں پر گشت کرتے تھے۔رومی سپاہی اندر سے مسلمانوں پر تیر جانے والا ہے اور رومی سپاہی شراب میں مدہوش ہوں گے۔اس سے فائدہ اور پھر برسا رہے تھے۔محاصرہ 20 جمادی الاول سنہ 13ھ (مطابق اٹھا کر رات کے وقت خندق کو مشکوں سے پار کیا گیا اور چند ساتھیوں کو لے کر 20 اگست 634ء) کو شروع ہوا تھا اور کئی ماہ جاری رہا۔فصیل پر کمندیں ڈالیں اور فصیل پر چڑھ گئے اور چند سپاہی قتل کر کے قلعے کا ہم راتوں کو دمشق میں داخل ہونے کے منصوبے سوچتے رہتے اور اللہ شرقی دروازہ کھول دیا۔فوج اتنی بلند آواز سے اللہ اکبر کے نعرے لگاتی ہوئی