سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 16
27 26 میں تمہیں خالد بن الولید کی فوج کا سپہ سالار اعظم مقرر کرتا دروازے میں داخل ہوئی کہ دمشق کے لوگ اس اچانک حملے سے سخت جو ہمیں اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آیا ہے۔گھبرا گئے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔دمشق کی فتح ایک عظیم واقعہ تھا۔جس کی اطلاع دینے کے لئے خالد بن الولید نے ایک خط حضرت ابو بکر کولکھا اور ایک قاصد کے ہاتھ مدینہ بھجوانا چاہا۔خالد بن الولید نے میری شکایت بھی کی کہ وہ فاتحانہ شان سے دمشق میں داخل ہوئے اور میں نے رومیوں - مصالحت کر لی۔میں نے خالد بن الولید کو روکا اور بتایا کہ محاصرے کے دوران مجھے خط کے ذریعے اطلاع ملی کہ حضرت ابوبکر فوت ہو گئے ہیں اور حضرت عمر خلیفہ ہو گئے ہیں اور حضرت عمرؓ نے مجھے سپہ سالار بنا دیا ہے۔اس پر خالد بن الولید نے قاصد کو روک لیا۔پہ سالار اعظم کا عہدہ ہوں۔چنانچہ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے یہ منصب سنبھال لو۔حصول غنیمت کے لئے مسلمانوں کو تخریب میں مبتلا نہ کرنا اور مسلمانوں کو کسی ایسے پڑاؤ پر ہ ظہیر انا جس کا تم نے پہلے جائزہ نہ لے لیا ہو اور جس کے حالات سے تم باخبر نہ ہو۔کوئی ایسی مہم روانہ نہ کرنا جس کے دستے کما حقہ، منظم نہ ہوں اور خبر دار کوئی ایسا قدم نہ اٹھانا جو مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہو۔اللہ نے تمہارے ذریعے میری آزمائش کی ہے اور میرے ذریعے تمہیں آزمایا ہے۔اس دنیا کی ترغیبات سے ہوشیار رہو کہ کہیں یہ تمہیں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز رجب سنہ 13ھ میں ہوا تھا۔اسی طرح تباہ نہ کر دیں جس طرح انہوں نے تم سے پہلے اوروں کو تباہ کیا دمشق کے محاصرے کے دوران ہی حضرت عمرؓ کے احکامات کے تحت مجھے اور تم جانتے ہو کہ وہ کس طرح اپنے مقام سے گرے"۔اسلامی فوج کا با قاعدہ سپہ سالار اعظم بنا دیا گیا لیکن حکمت سے کام لیتے اللہ کی تلوار خالد بن الولید از میجر جنرل آغا ابراہیم اکرم۔بحوالہ طبری ہوئے دمشق کی فتح تک میں نے اسے صیغہ راز میں رکھا۔جو خط حضرت عمر نے جلد 2 صفحہ 632) لکھا وہ یہ ہے:۔بسم اللہ الرحمان الرحیم خلیفہ وقت کے حکم کے ماتحت میں نے سب لشکروں کی کمان سنبھال لی اور خالد بن الولید نے خلیفہ وقت کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کر کے بڑی میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی تاکید کرتا ہوں جولا یزال ہے جب بشاشت سے میرے ماتحت رہ کر شام کے معرکوں میں شامل رہنا قبول کر لیا کہ باقی ہر چیز فانی ہے۔جو ہمیں گمراہی سے بچنے کی راہ دکھاتا ہے اور یہ ان کی عظمت اور حقیقی شجاعت کی روشن دلیل ہے۔