سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ

by Other Authors

Page 14 of 24

سوانح حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ — Page 14

23 22 میرے ساتھ تھا۔رومی دستوں نے دو دفعہ قلعے سے نکل کر جنگ کی لیکن انہیں نے ہماری جاسوسی کے لئے بھیجا۔اس نے واپس جا کر رومی سپہ سالار کو بتایا کہ کامیابی حاصل نہ ہوئی اور پھر قلعہ بند ہو گئے۔خالد بن الولید کی آمد پر با قاعدہ مسلمان تعداد میں تو رومیوں کا تیسرا حصہ بھی نہیں ہیں لیکن رومی کسی صورت فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ہم نے غسانی حکومت کا مرکز بصری فتح کر لیا۔میں بھی مسلمانوں پر فتح حاصل نہیں کر سکتے۔رومی سپہ سالار نے وجہ دریافت کی بصری والوں کے ساتھ جزیہ کی ادائیگی پر صلح ہوئی۔تو اسے بتایا گیا کہ مسلمان مجاہدین رات کو عبادت کرتے ہیں، اپنے افسروں رومیوں نے وسط جمادی الاول سنہ 13ھ مطابق وسط جولائی 634ء) کی اطاعت کرتے ہیں اور دن کو لڑائی کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں جب کہ میں اطاعت قبول کی۔بصری پہلا اہم قصبہ تھا جو مسلمانوں نے شام میں فتح رومی رات کو شراب پیتے اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔رومیوں نے اسلامی کیا۔اس کی باقاعدہ اطلاع خلیفہ وقت حضرت ابوبکر کو مدینہ بھجوائی گئی۔لشکر کے ہر فرد کو ایک ایک قباء ایک ایک عمامہ اور ایک ایک دینار اور سپہ سالار کو جنگ اجنادین سوقبائیں سو عمامے اور سود ینار لے کر واپس ہٹ جانے کی پیشکش کی۔خالد بن اسلامی لشکروں کی شام میں آمد کی خبر ملتے ہی قیصر نے جو اس وقت حمص الولید نے اسے اسلام قبول کرنے جزیہ دے کر صلح کرنے یا لڑائی لڑنے کی دعوت میں تھا اپنی فوجیں اجنادین میں جمع کرنی شروع کر دی تھیں۔اجنادین کے دی اور کہا کہ قبائیں اور عمامے وغیرہ تو ہمیں فتح کے بعد مل ہی جائیں گے۔قریب شام فلسطین اور اردن کی سرحدیں آپس میں ملتی تھیں ہر قتل کا مقصد یہ تھا رومی افسر نے سپہ سالار کو یہ پیغام پہنچایا جس سے وہ سخت غصے میں آ گیا کہ وہ دمشق، فلسطین اور اردن جانے والے اسلامی لشکروں کو اجنادین کے اور قسم کھائی کہ وہ ایک ہی حملہ میں ہمیں تباہ کر دے گا۔لیکن اللہ کی شان ہے کہ پاس شکست دے کر واپس صحرائے عرب میں دھکیل دے گا چنانچہ جب اسے سپہ سالار وردان انفرادی لڑائی میں مارا گیا اور جب باقاعدہ جنگ شروع ہوئی سرحدی مرکز بصری کی فتح کا علم ہوا تو اس نے اجنادین میں 90 ہزار کی تعداد تو دشمن پچاس ہزار لاشیں چھوڑ کر بیت المقدس (یرو علم ) کی طرف بھاگ کر میں اکٹھی ہونے والی فوجوں کو تیار رہنے کا حکم دیا۔پناہ گزین ہو گیا اس جنگ میں چار سو پچاس مسلمان شہید ہوئے۔ہم بصری سے اسلامی لشکر اجنادین کی طرف لے کر آئے اس وقت سپہ اجنادین کی فتح نے شام کو فتح کرنے کے لئے راستہ کھول دیا۔سالار خالد بن الولید تھے۔28 جمادی الاوّل سنہ 13ھ (مطابق 30 دمشق کی فتح جولائی 634ء) کو اسلامی لشکر کو میدان جنگ میں وسیع کر کے پھیلا دیا گیا۔یہاں ایک دلچسپ واقعہ ہوا لڑائی سے قبل ایک عرب عیسائی کو رومیوں دمشق ممالک شام کا مرکزی شہر تھا اور اسے شام کی جنت کہا جاتا تھا دمشق