حیات طیبہ — Page 25
25 ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے جن کا نام ہر کسن تھا اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہو گئے تھے ) محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ترجمان کی ضرورت تھی۔مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعداد رکھتے تھے اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی کر سکتے تھے۔اس واسطے مرزا صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ جو جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو اور جو جواب وہ دیں اُردو میں ہمیں لکھواتے جاؤ۔مرزا صاحب نے اس کام کو کما حقہ ادا کیا اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔اس زمانہ میں مولوی الہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے۔(اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنرز ہیں استاد مقرر ہوئے۔مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔اے مرزا صاحب کو اس زمانہ میں مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا ایک دفعہ پادری الائشہ صاحب (سے) جو دیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ سے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں ایک کوٹھی میں رہا کرتے تھے۔مباحثہ ہوا۔پادری صاحب نے کہا کہ عیسوی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔مرزا صاحب نے فرمایا۔نجات کی تعریف کیا ہے؟ اور نجات سے آپ کیا مرا در کھتے ہیں۔مفصل بیان کیجئے پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریر نہ کی اور مباحث ختم کر بیٹھے اور کہا کہ میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا۔پادری بٹلر صاحب ایم اے سے جو بڑے فاضل اور محقق تھے۔مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔یہ صاحب موضع گوہد پور کے قریب رہتے تھے۔ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ ستر تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور آدم کی شرکت سے جو گنہ گار تھا بری رہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے۔پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے؟ علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی جس سے آدم ے اس زمانہ میں پہلی کتاب میں حروف تجھی کی شناخت کروائی جاتی تھی اور دوسری کتاب میں حروف جوڑ کر آسان الفاظ بنانے کی ابتدائی مشق ہوتی تھی ( سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم صفحہ ۱۵۹)