حیات طیبہ

by Other Authors

Page 24 of 492

حیات طیبہ — Page 24

24 اور بڑی خوشی سے اس چھوٹے سے مکان میں آپ کے ساتھ جابیٹھتے جس میں آپ کی سکونت تھی۔بعض تنگ ظرف عیسائیوں نے پادری صاحب کو اس سے روکا بھی کہ اس طرز عمل میں آپ کی ہتک اور مشن کی خفت ہے مگر پادری صاحب نے بڑے علم اور متانت سے جواب دیا کہ: یہ ایک عظیم الشان آدمی ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتا۔تم اس کو نہیں سمجھتے میں خوب سمجھتا ہوں۔‘1 عیسائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کی روک تھام عرصہ قیام سیالکوٹ میں عیسائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو آپ نے اس خوبی ، متانت اور سنجیدگی سے اپنے پرزور دلائل کے ساتھ روکا کہ اپنے اور بیگانے سب آپ کی قابلیت کا لوہا مان گئے۔ذیل میں ہم شمس العلماء مولانا سید میر حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی کی دو مفصل شہادتیں درج کرتے ہیں جن سے واضح ہو جائے گا کہ اعلیٰ درجہ کی پاکیزہ زندگی گزارنے اور اسلام کی طرف سے دفاع کرنے میں آپ نے کس قدر اہم کردار ادا فرمایا۔حضرت اقدس کے قیام سیالکوٹ کے متعلق مولانا سید میرحسن صاحب کا پہلا بیان شمس العلماء جناب مولانا سید میر حسن صاحب مرحوم جو شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے استاد تھے فرماتے ہیں: حضرت مرزا صاحب ۱۸۷۴ء میں تقریب ملازمت شہر سیالکوٹ میں تشریف لائے اور قیام فرمایا۔چونکہ آپ عزلت پسند اور پارسا اور فضول ولغو سے مجتنب اور محتر ز تھے۔اس لئے عام لوگوں کی ملاقات جوا کثر تضیع اوقات کا باعث ہوتی ہے۔آپ پسند نہیں فرماتے تھے لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسٹنٹ تھے اُن کے بڑے رفیق تھے اور چونکہ بٹالہ میں مرزا صاحب اور لالہ صاحب آپس میں تعارف رکھتے تھے اس لئے سیالکوٹ میں بھی اُن سے اتحاد کامل رہا۔پس سب سے کامل دوست مرزا صاحب کے اگر اس شہر میں تھے تو لالہ صاحب ہی تھے اور چونکہ لالہ صاحب سلیم طبع اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا ر کھتے تھے۔اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی۔مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچہری والے آگاہ نہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں لے حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات مشمولہ براہین احمدیہ حصہ اوّل طبع چہارم صفحہ ۲۲ مرتبہ میاں معراج دین صاحب عمر