حیات طیبہ — Page 434
434 تعالیٰ کی نظر میں مومن نہ بنے تو ان کے لئے دوہرا گھاتا ہے۔“ حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں : ”جہاں تک مجھے یاد ہے۔یہ حضور کی آخری نصیحت یا وصیت تھی۔جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔“ لے تصنیفات ۱۹۰۸ء (۱) تصنیف و اشاعت چشمہ معرفت : اس کتاب کی وجہ تصنیف او پر بیان کی جا چکی ہے کہ آریوں نے ۴-۳-۲؍ دسمبر ۱۹۰۷ ء کو جو جلسہ لاہور میں کیا تھا۔اس میں کئے گئے اعتراضات کا اس میں مکمل جواب دیا گیا ہے۔حضور نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلے حصہ میں اُن لاف زنیوں اور دروغ بافیوں کا رڈ کیا گیا ہے جو آریوں نے وید کی حمایت اور اس کی خوبیاں ظاہر کرنے کے لئے کی تھیں۔دوسرے حصہ میں ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو آر یہ لیکچرار نے قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے تھے۔تیسرے حصہ میں اسلام کی خصوصیات کو واضح کیا گیا ہے اور پھر آخر میں وہ مضمون شامل کیا گیا ہے جو حضور کی طرف سے جلسہ مذکورہ میں پڑھا گیا تھا۔استجابت دعا میں مقابلہ کی دعوت اس کتاب کے ساتھ آپ نے علماء پر مزید حجت پوری کرنے کے لئے ایک اعلان بھی شائع فرمایا جس کا عنوان ہے رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ “ یعنی اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ فرما۔اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔چنانچہ حضور نے لکھا۔آج ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے۔شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اُٹھاوے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے۔اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو اشد مخالف ہو۔اور مجھ کو کافر و کذاب سمجھتا ہو۔وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں اور دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے۔جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں۔یعنی اس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لے کر جو جُدا جُدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں۔قرعہ ا الفضل ۱۲ نومبر ۱۹۵۹ء