حیات طیبہ — Page 433
433 معنوں سے نبی نہیں ہوں۔کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں۔یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں۔میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے۔جو قرآن شریف نے پیش کیا۔اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا شوشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔میں خود ستائی سے نہیں۔مگر خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور ایک طرف صرف میں کھڑا کیا جاؤں اور کوئی ایسا امر پیش کیا جائے۔جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں تو مجھے اس مقابلہ میں خدا غلبہ دیگا اور ہر ایک پہلو سے خدا میرے ساتھ ہوگا۔پس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانہ میں کثرت مکالمہ مخاطبہ اور کثرت اطلاع برعلومِ غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔1 ایک پبلک لیکچر کی تجویز اور پیغام صلح دعوتِ طعام کے موقعہ پر جو لیکچر حضرت اقدس نے دیا تھا وہ چونکہ ایک محدود طبقہ میں دیا گیا تھا۔اس لئے بعض معززین نے یہ تجویز پیش کی کہ حضور ایک پبلک لیکچر بھی دیں۔جس میں کثرت سے لوگ شامل ہو کر فائدہ اُٹھا ئیں۔حضور نے اس تجویز کو منظور فرمالیا اور اس کے لئے ایک مضمون لکھنا شروع کر دیا۔مضمون کا عنوان تھا۔”پیغام صلح، حضور چاہتے تھے کہ اس پیغام کے ذریعہ ہندوستان کی دو مشہور قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی طور پر صلح ہو جائے اور حضور نے اس کے لئے چند تجاویز بھی پیش فرمائی تھیں لیکن ابھی مضمون کے سنائے جانے کا موقعہ نہیں آیا تھا کہ آپ وفات پاگئے۔آخری نصیحت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں : ایک روز غالبا وفات سے دو دن پہلے حضور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے مکان کے ہال کمرہ میں نماز ظہر و عصر ادا فرما کر تشریف فرما ہوئے۔اس وقت حضور کے سامنے پندرہ بیس احباب تھے اور میں بھی حاضر تھا۔۔۔۔۔۔اس وقت حضور نے کچھ باتیں بطور نصیحت فرمائی۔ان میں سے حضور کے یہ الفاظ مجھے آج تک خوب یاد ہیں کہ ” جماعت احمدیہ کے لئے بہت فکر کا مقام ہے۔کیونکہ ایک طرف تو لاکھوں آدمی انہیں کافر کافر کہتے ہیں۔دوسری طرف اگر یہ بھی خدا 1 تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۱۳۲