حیات طیبہ — Page 435
435 اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جائے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جاوے۔وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کر کے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمار میرے حصہ میں آویگا۔تو خدا اُس کو بکلی صحت دیگا۔یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اس کی عمر بڑھا دے گا اور یہی امر میری سچائی کا گواہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ شرط ہوگی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہوگا۔وہ خود اور ایسا ہی دس اور مولوی یا دس رئیس جو اُس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کر دیں کہ در حالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرار تین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہوگا۔ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرط ہو گی۔۔۔۔۔۔اس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہوگا کہ کسی خطر ناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نا اُمید ہو چکا ہے خدا تعالیٰ جان بچائے گا اور احیاء موتی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر ہو جائے گا۔حق و باطل کے امتیاز کے لئے یہ ایک مفید مقابلہ تھا مگر کسی شخص نے بھی اس مقابلہ میں آنے کے لئے آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔۲- ”پیغام صلح ہندوستان کی دو مشہور قوموں ہندو اور مسلمانوں میں صلح ہو جانے کی غرض سے حضرت اقدس نے اس عنوان سے ایک لیکچر لکھنا شروع فرمایا تھا۔جو ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ آپ کا وصال ہو گیا۔فانا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تاہم جس قدر لکھا جاچکا تھا دونوں قوموں میں صلح ہو جانے کے لئے اس میں کافی مواد موجود تھا۔یہ لیکچر حضور کے وصال کے بعد ۲۱ / جون ۱۹۰۸ء کو اتوار کے روزے بجے صبح یو نیورسٹی ہال میں ایک بڑے مجمع کے سامنے خواجہ کمال الدین صاحب نے سنایا۔اس جلسہ کے صدر جس میں یہ لیکچر پڑھ کر سنایا گیا۔لاہور چیف کورٹ کے جسٹس سر پر تول چند چیٹر جی تھے۔ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔باہر بھی کثرت سے لوگ کھڑے تھے۔اس لیکچر میں درج شدہ تجاویز صلح کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔اور اس وقت لوگوں نے دستخط کرنے پر آمادگی کا بھی اظہار کیا، لیکن اس خیال سے کہ یہ ارادہ مضمون کے فوری اثر کی وجہ سے نہ ہو۔دستخط کیا جانا دوسرے وقت پر ملتوی کیا گیا۔مگر پھر ان دستخطوں کی نوبت نہیں آئی اور سنا گیا کہ آریہ صاحبان نے ان تجاویز کو اپنے مقصد کے خلاف سمجھ کر دستخط کرنے پسند نہیں کئے۔مرض الموت حضرت اقدس اپنے لیکچر پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے کہ ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء کو یہ الہام ہوا۔الرّحِيلُ