حیات طیبہ — Page 414
414 ہو۔پھر اس نے اپنے ہاتھ کو زور زور سے گرمی کے بازو پر مارا۔لوگ اس غیر معمولی حرکت سے کچھ حیران سے ہو گئے۔ڈوئی کا رنگ زرد پڑ گیا اور وہ گرنے ہی لگا تھا کہ اس کے دومریدوں نے اسے سہارا دیا اور گھسیٹتے ہوئے اسے ہال سے باہر لے گئے۔“ غرض ڈوئی پر عین اس وقت فالج کا حملہ ہوا جب کہ میحون شہر کے مالی بحران کو ختم کرنے کے لئے میکسیکو میں جائیداد خریدنے کی سکیم اپنے پورے عروج پر پہنچ رہی تھی۔خدائے منتقم و قادر مطلق نے آج اس کی اس زبان کو بند کر دیا۔جس سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی کے خلاف بدزبانی کیا کرتا تھا۔وہ صرف آہستہ آہستہ گفتگو کر سکتا تھا۔جب اس کی صحت روز بروز گرنے لگی تو ڈاکٹری مشورہ کے مطابق اسے بحالی صحت کے لئے میکسیکو اور جمیکا کے سفر پر روانہ ہونا پڑا۔مگر اب اسے اپنے نائبین پر اعتماد نہ تھا۔اسے ڈر تھا کہ اس کی غیر حاضری میں سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔اس لئے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کا قائم مقام اوور سیر والوا ہوگا۔جو اس کی طرف سے آسٹریلیا مشن کا انچارج تھا۔مگر چونکہ وہ جلد نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس لئے اس کی غیر حاضری میں اس نے صیحون کا انتظام اپنے تین مریدوں کی ایک کمیٹی کے سپر د کر دیا۔صیحون میں ڈوئی کے خلاف بغاوت کا مواد دیر سے پک رہا تھا۔اس پھوڑے کو صرف چیرنے کی ہی ضرورت تھی۔سو وہ چیرا اس طرح دیا گیا کہ اس کے عملہ کا ایک افسر ایک صیحونی عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔وہ یہ اجازت حاصل کرنے کے لئے ڈوئی کے ساتھ شکاگو تک ٹرین میں گیا۔راستے میں اس رشتہ کی اجازت چاہی۔مگر ڈوئی نے صاف انکار کر دیا۔اس افسر نے واپس صیحون پہنچ کر انتظامیہ کمیٹی کے ایک ممبر سے کہا کہ مجھے اجازت مل گئی ہے۔آپ اس کا اعلان کر دیں۔چنانچہ اس ممبر نے اعلان کر دیا۔ڈوئی یکم جنوری ۱۹۰۱ء کو جمیکا پہنچ چکا تھا۔اسے جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو اس نے بذریعہ تار اعلان کرنے والے ممبر کو اس کے عہدہ سے برخاست کر دیا۔اب لوگ اس ممبر کو بے قصور سمجھتے تھے۔ان کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں۔اس لئے پہلا احتجاج تو ایڈیٹر لیوز آف ہیلنگ نے کیا کہ ڈوئی کے اس تار کی اشاعت سے انکار کر دیا۔ڈوئی کو جب اپنے ذاتی اخبار کے اس باغیانہ رویہ کا علم ہوا۔تو اس نے اپنے عملہ کے ایک آدمی کو اپنا ذاتی خط دیگر میحون روانہ کیا۔جس میں ایڈیٹر کے نام یہ حکم تھا کہ اس تعزیر کا اعلان فوری طور پر اخبار میں کر دیا جائے۔ایڈیٹر نے جب خط وصول کیا تو ڈوئی کے قاصد کے سامنے ہی اُس کے پرزے کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور کہا کہ جاؤ جا کر ڈوئی کو کہہ دو کہ اس کے خط کا یہی جواب ہے۔آسٹریلیا سے بلوایا ہوا نا ئب مسٹر والوا بھی ۱۲ فروری ۱۹۰۶ء کو صیحون پہنچ گیا۔مگر یہاں آکر اسے معلوم ہوا