حیات طیبہ

by Other Authors

Page 415 of 492

حیات طیبہ — Page 415

415 کہ جس ریاست کا اسے والی قرار دیا گیا ہے۔اس کی تو حالت ہی دگر گوں ہے۔لیوز آف ہیلنگ سرمایہ کی کمی کی وجہ سے بند ہو چکا تھا۔دیگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔وہ لوگ جن کا روپیہ میحون کے خزانہ میں جمع تھا۔وہ ایک ایک پائی کو ترس رہے تھے۔غرضیکہ وہ خستہ حالی تھی کہ الامان والحفیظ! ان حالات میں ڈوئی کا جمیکا سے کیوبا اور پھر کیوبا سے میکسیکو کے سفر کا ارادہ تھا۔روپیہ بہر حال صحون سے ہی حاصل کرنا تھا۔جب اس نے مسٹر والو کو اپنے اس ارادہ کی اطلاع دی۔تو اس نے اس جرم میں ڈوئی کا شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا۔اب تو ڈوئی غصہ میں دیوانہ ہی ہو گیا۔اواخر مارچ ۱۹۰۶ء میں والو کو بھی تار دیکر اسے اپنی جانشینی کے عہدے سے برخاست کر دیا۔مگر اب اس کی کون سنتا تھا۔والوا کی برخاستگی کے تار نے صیحون میں ایک طوفان برپا کر دیا۔مسٹر ڈوئی کے اس فیصلہ کی وجہ سے سب لوگ اس کے برخلاف ہو گئے۔۳۱ مارچ ۱۹۰۶ ء کو یہ تار پہنچا تھا۔یکم اپریل ۱۹۰۶ء کو والوانے ایک عام میٹنگ کا اعلان کر دیا۔ساڑھے تین ہزار صیہونی اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔مسٹر والوانے اس واقعہ کی تفاصیل بیان کیں۔جب ڈوئی کے مریدوں کو اس بات کا علم ہوا کہ ڈاکٹر ڈوئی اپنے ذاتی حساب میں زائن کا چھ لاکھ ڈالر حاصل کر چکا ہے اور زائن کی انڈسٹریز میں اس تاریخ تک پچیس لاکھ ڈالر کے حصص پک چکے ہیں مگر اس میں صرف پانچ لاکھ ڈالر کام پر لگائے گئے ہیں۔مٹھائی بنانے کے کارخانے کے لیے ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زائد کے حصص فروخت کئے گئے۔مگر صرف سترہ ہزار ڈالر تجارت پر لگائے گئے تو لوگ آپے سے باہر ہو گئے۔اس کے بعد والوا نے ڈوئی کے اس نائب کو بلایا۔جس کو اس سے قبل ڈوئی نے ایک صحونی کی شادی کا اعلان کرنے کے جرم میں ممبری سے الگ کر دیا تھا اور کہا کہ میں اسے پھر اس کے عہدے پر مقرر کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔لوگوں نے خوشی اور مسرت کے نعروں سے اس تقر رکا استقبال کیا۔اس کے بعد مسٹر والوانے اعلان کیا کہ ڈوئی چونکہ غرور تعلی ، فضول خرچی اور عیاشی اور لوگوں کے پیسوں پر تعیش کی زندگی بسر کرنے کا مجرم ہے۔اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ ہماری قیادت کا قطعا نااہل ہے۔اس اعلان پر لوگوں کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔اس کے بعد کیبنٹ کی ایک اور میٹنگ ہوئی جس نے مشورہ کے بعد ڈوئی کو حسب ذیل تا ردیا کیبنٹ کے تمام نمائندگان والوا کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں اور جن افسروں کو آپ نے برخاست کیا تھا ان کو دوبارہ ان کے عہدوں پر قائم کرتے ہیں۔اور آپ کی فضول خرچی اور منافقت، جھوٹ اور غلط بیانیوں اور مبالغہ آمیزیوں ،لوگوں کی رقوم کے ناجائز استعمال اور ظلم اور بے انصافیوں کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہیں۔“ ۱؎ لے بحوالہ ڈوئی کا عبرتناک انجام صفحہ ۸۵