حیات طیبہ

by Other Authors

Page 413 of 492

حیات طیبہ — Page 413

413 پاؤں رکھوں تو میں اُن کو کچل کر مارڈالوں گا۔“ ۱؎ حضرت اقدس کو جب اس کی اس گستاخی و بے ادبی اور شوخی و شرارت کی اطلاع ملی۔تو آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور اس فیصلہ میں کامیابی کے حصول کیلئے زیادہ زور سے دُعائیں کرنا شروع کر دیں۔اس دوران میں وہ امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں بہت شہرت ، ناموری اور عزت حاصل کر چکا تھا۔اور چونکہ وہ خوب تنومند تھا۔اس لئے بھرے جلسوں میں اکثر اپنی شاندار صحت پر فخر بھی کرتا تھا۔ممکن ہے وہ خوش ہوتا ہو کہ میں دن بدن عروج پکڑتا جار ہا ہوں۔مگر حضرت اقدس کا خدا اسے تمام دنیا میں مشہور کرنے کے بعد اس بُری طرح سے ذلیل کرنا چاہتا تھا کہ جس سے دنیا عبرت پکڑے اور اسے پتہ لگ جائے کے خدا کے ماموروں کے مقابلہ میں آنے والی بڑی سے بڑی عظیم شخصیتوں کا کیا حشر ہوتا ہے؟ مسٹر ڈوئی چونکہ ایک عیاش آدمی تھا اور صیحون کا شہر بھی اس نے اپنے مریدوں سے قرضے حاصل کر کے آباد کیا تھا۔اس لئے ایک طرف تو شہر کی رونق میں کمی آنے لگی اور دوسری طرف جوسرمایہ جمع تھاوہ ڈوئی کی عیاشیوں میں خرچ ہونے لگا۔نتیجہ یہ نکلا کہ مسٹر ڈوئی کا وقار کم ہونا شروع ہو گیا۔اس مہلک مالی بحران کو دُور کرنے کے لئے ڈوئی نے میکسیکو میں ایک زمین خریدنے کا ارادہ کیا۔اس کا خیال تھا کہ اگر ایک دفعہ یہ زمین خرید لی گئی تو صیحون کی ساری مالی مشکلات دُور ہو جائیں گی۔چنانچہ اس زمین کی خرید کیلئے اپنے صیونی مریدوں سے قرضہ حاصل کرنا چاہا اور اس غرض سے ستمبر ۱۹۰۵ ء کی آخری اتوار کو ایک غیر معمولی جلسہ کا اعلان کیا۔اس جلسہ کی تیاری بڑے اہتمام سے کی گئی۔جب ڈوئی اپنے زرق برق لباس میں جس کو وہ اپنا پیغمبری لباس کہا کرتا تھا۔ملبوس ہو کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تو تمام مجمع کی نگاہیں اس انتظار میں اس پر جم گئیں کہ دیکھیں مسٹر جان الیگزنڈر ڈوئی اب کیا اعلان فرماتے ہیں۔مسٹر نیو کومب نے جو مسٹر ڈوئی کا سوانح نگار ہے۔لکھا ہے: ڈوئی اس روز اپنی فصاحت کے معراج پر تھا۔وعظ کے بعد Lord's Supper کی تقریب تھی۔جس کے بعد ڈوئی سفید لباس پہن کر پھر اپنے مریدوں کے سامنے آیا۔پہلے دُعائیہ ترانہ گایا گیا۔بائیبل سے بعض آیات کی تلاوت کے بعد مسیح کا خون اور گوشت، روٹی اور شراب کی صورت میں خاص لباس میں ملبوس نائبین کے ذریعے سے تمام حاضر الوقت ارادت کیشوں میں تقسیم کیا گیا۔اب اصل تقریب قریب التکمیل تھی۔ڈوئی کو صرف چند اختتامی الفاظ کہنا تھا۔جس کے بعد جلسہ برخواست ہو جانا تھا۔ان آخری الفاظ کے لئے لوگ توجہ کیسا تھ منتظر تھے۔اچا نک ڈوئی نے اپنے دائیں ہاتھ کو زور سے جھٹکا دیا۔جیسے کہ کوئی گندہ کیڑا اس کے باز وکو آ چمٹا لے بحوالہ تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۳