حیات طیبہ — Page 402
402 شائستگی و انسانیت کو بالکل ہی خیر باد کہہ کر بد زبانی و دریدہ دہانی کو بھی انتہا تک پہنچادیتے تھے۔ذیل میں اس کے چند نمو نے درج کئے جاتے ہیں۔مولوی صاحب نے حسب عادت اپنے دوستوں میں مباہلہ پر بڑی شدت سے آمادگی کا اظہار کیا۔کیونکہ آپ کے دوست آپ سے مباہلہ کرنے کے لئے زبانی بھی کہتے رہتے تھے اور لکھ لکھ کر بھی بھیجتے رہتے تھے اور آپ نے زبانی آمادگی کے اظہار پر بس نہ کر کے جوش میں آکر اپنے ایک دوست کو مباہلہ کی آمادگی سے متعلق ایک تحریر بھی لکھ کر بھیج دی۔وہ تحریر حضرت اقدس تک پہنچی۔تو حضور نے اپنی زیر تالیف کتاب اعجاز احمدی میں فرمایا: میں نے سنا ہے۔بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی و تخطی تحریر بھی میں نے دیکھی ہے۔جس میں وہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے۔وہ سچے کی زندگی میں ہی مر جائے۔۔۔۔۔۔۔سو اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ خواہشیں دل سے ظاہر کی ہیں نفاق کے طور پر نہیں تو اس سے بہتر کیا ہے اور وہ اس امت پر اس تفرقہ کے زمانہ میں بہت احسان کرینگے کہ مرد میدان بن کر ان دونوں ذریعوں سے حق و باطل کا فیصلہ کر لیں گے۔یہ تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔‘ 1 آگے چل کر حضور لکھتے ہیں: اگر اس چیلنج پر وہ (مولوی ثناء اللہ صاحب ) مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔“ مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی یہ کتاب شائع ہو جانے پر اپنے مباہلہ کے لئے تحریر لکھنے کا تو کوئی ذکر نہ کیا اور حضرت اقدس کی تحریر کے جواب میں صرف یہ لکھ دیا کہ چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے اس لئے ایسے مقابلہ کی جرأت نہیں کرسکتا۔مسلے لیکن باوجود اس کے کچھ مدت کے بعد مولوی صاحب نے پھر لکھا کہ البتہ آیت ثانیہ (یعنی قُل تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا) پر عمل کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔جو آیت مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے۔جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے۔مولوی صاحب کی اس تحریر کے بعد جب حضرت اقدس نے فروری ۱۹۰۷ء میں قادیان کے آریوں کے اعجاز احمدی صفحه ۱۴ سے اعجاز احمدی صفحہ ۳۷ سے الہامات مرزا بار دوم صفحه ۸۵ کے اہلحدیث ۲۲ جون ۱۹۰۲ ء صفحه ۴