حیات طیبہ

by Other Authors

Page 401 of 492

حیات طیبہ — Page 401

401 ہے کہ آریوں نے ان کو اکسانے پر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا ہوگا۔کیونکہ یہ معاملہ ہی ایسا تھا کہ اس کی وجہ سے ان پر بہت بڑی زد آتی تھی۔لیکن لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کو کسی طرح یہ منظور نہ ہوا کہ وہ حضرت اقدس کی مطلوبہ قسم کے مقابلہ میں قسم کھاویں۔یا اُس کا کوئی جواب دیں اور اُن کے اس غیر معمولی رویہ نے ایک مرتبہ پھر اس امر کے صحیح اور درست ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ حضرت اقدس نے لالہ شرمیت اور لالہ ملاوامل کو جو اپنے نشانوں کا گواہ قرار دیا ہے اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں جن کا بار بار ذکر آیا ہے۔وہ ضرور ان نشانات کے گواہ تھے۔ورنہ ایسے نازک موقعہ پر جو انہیں حضرت اقدس کے قسم کھانے کے مطالبہ کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا۔وہ کبھی خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔اس خاموشی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ عذاب الہی سے محفوظ رہے، لیکن اخبار شٹھ چنگ“ کے تینوں کارندے جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔اپنی شوخی و شرارت میں بڑھ جانے کی وجہ سے طاعون کا شکار ہو گئے۔اے مولوی ثناء اللہ امرتسری کا مباہلہ سے خوف وانکار قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ ہم ۱۸۹۶ء کے حالات میں حضرت اقدس کے علماء وصوفیاء کو مباہلہ کے لئے چیلنج دینے کا ذکر کر چکے ہیں۔اس چیلنج میں ہندوستان کے علماء میں سے ۵۸ مشہور علماء اور صوفیاء میں سے ۴۹ معروف صوفیاء کے نام درج کر کے انہیں مباہلہ کے لئے بلایا تھا۔اور علماء کے ناموں میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا نام بھی گیارہویں نمبر پر تھا۔اور جس طرح تمام علماء کو مباہلہ کے لئے میدان میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی۔مگر اس معاملہ میں اور تمام علماء سے مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ امتیاز خاص طور پر حاصل ہے کہ وہ بعض علماء کی طرح دو ایک بار مباہلہ کرنے سے متعلق رکیک اور بارد عذرات پیش کر کے خاموش نہیں وگئے۔بلکہ جو دورنگی چال انہوں نے اختیار کی تھی۔اس پر چلتے رہے اور کبھی اس سے علیحد گی نہیں کی اور وہ چال یہ تھی کہ وہ دل سے تو ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ حضرت اقدس کے ساتھ مباہلہ کی نوبت آئے۔مگر لوگوں پر ظاہر یہی کرنا چاہتے تھے کہ میں مباہلہ کے لئے بالکل تیار ہوں۔کبھی تو اپنے ہم خیالوں کی اس پرسش پر کہ آپ مباہلہ کیوں نہیں کرتے۔آپ کوضرور مباہلہ کرنا چاہئے۔وہ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کر دیا کرتے تھے اور کبھی کبھی خود بھی ترنگ میں آکر بڑے طمطراق وکتر وفر سے مباہلہ مباہلہ کا شور مچادیتے تھے لیکن جب حضرت اقدس کی طرف سے جواب دیا جاتا تو ان کو یہ کہہ دینے میں کوئی حجاب نہ ہوتا کہ میں نے تو کبھی مباہلہ کے لئے نہیں کہا اور صرف انکار پر ہی اکتفا نہ کرتے۔ہو۔اے محترمی مرز اسلام اللہ صاحب کا بیان ہے کہ پنڈت سومراج کو جب طاعون ہو گیا تو انہوں نے علاج کے لیے حضرت حکیم مولوی عبد اللہ صاحب بسمل کو بھیجا۔حکیم صاحب کے استفسار پر حضرت اقدس نے کہلا بھیجا کہ علاج ضرور کرو۔مگر یہ بچے گا نہیں۔چنانچہ علاج کرنے کے با وجود وہ اسی شام کو مر گیا۔