حیات طیبہ — Page 403
403 مقابلہ میں اپنی کتاب ” قادیان کے آریہ اور ہم شائع فرمائی۔اور اس میں لالہ شرمیت اور لالہ ملاوامل کو بالمقابل قسمیں کھانے کے لئے بلایا۔تو اس رسالہ کی ایک جلد مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی بھیجی گئی۔جس کے متعلق ایڈیٹر صاحب الحکم نے لکھا کہ اس رسالہ کی ایک جلد مولوی ثناء اللہ امرتسری کو بھی بھیجی گئی ہے۔قادیان کے آریوں نے حضرت مرزا صاحب کے جو نشانات دیکھ کر تکذیب کی اور کر رہے ہیں۔اس رسالہ میں ان سے مباہلہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔اور ثناء اللہ نے کوئی نشان صداقت بطور خارق عادت اگر نہیں دیکھا ہے تو وہ بھی قسم کھا کر پر کھ لے۔تا معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کس کی حمایت کرتا اور کس کی قسم کو سچا کرتا ہے۔ایڈیٹر صاحب الحکم کی اس تحریر کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا کہ ”مرزائیو! سچے ہو تو آؤ۔اور اپنے گرو کو ساتھ لاؤ۔وہی میدان عیدگاہ امرتسر تیار ہے۔جہاں تم ایک زمانہ میں صوفی عبد الحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلّت اُٹھا چکے ہو۔اور امرتسر میں نہیں تو بٹالہ میں آؤ۔سب کے سامنے کارروائی ہوگی۔مگر اس کے نتیجہ کی تفصیل اور تشریح کرشن قادیانی سے پہلے کرا دو۔اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ۔جس نے ہمیں رسالہ ”انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہوئی ہے۔“ ہے باوجود اس کے مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ میں نے مباہلہ کے لئے نہیں کہا ہے جتنا لغو اور باطل ہے محتاج بیان نہیں۔یہ تو سچ ہے کہ وہ دل سے مباہلہ کے لئے کبھی تیار نہیں ہوئے لیکن اپنے ہم خیالوں کو مغالطہ دینے کے لئے انہوں نے ضرور یہ رنگ اختیار کیا ہے کہ وہ مباہلہ کے لئے آمادہ ہیں۔اگر یہ بات نہیں تو انہوں نے کس غرض سے یہ لکھا کہ ” وہی میدان عید گاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم صوفی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو۔اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہوئی ہے۔“ بہر حال مولوی ثناء اللہ صاحب کی او پر والی تحریر جو انہوں نے ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ ء کے اہلحدیث میں شائع کی تھی۔حضرت اقدس کے علم میں آئی۔تو حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے اس کا جواب لکھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔حضرت مفتی صاحب نے لکھا کہ وو مباہلہ کے واسطے مولوی ثناء اللہ امرتسری کا چیلنج منظور کر لیا گیا“ حضرت مسیح موعود کے حکم سے لکھا گیا۔الحکم ۱۷ مارچ ۹۰۷اء ، اہلحدیث ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ء