حیات طیبہ — Page 334
334 موعود ہے اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے۔مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔جب چار مہینے قید کے گذر گئے۔تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر اپنی عام کچہری میں تو بہ کے لئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے روبرو انکار کر وتو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اُس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدہ کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے۔اگر میں دلائل کی رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزادی جائے۔۔۔۔۔امیر نے اس بات کو پسند کیا۔اور مسجد شاہی میں خاں ملا خاں اور آٹھ مفتی بحث کے لئے منتخب کئے گئے۔اور ایک لاہوری ڈاکٹر اے جو خود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا۔بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس بحث کے وقت موجود تھے۔مباحثہ تحریری تھا۔صرف تحریر ہوتی تھی اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی۔اس لئے اس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔سات بجے صبح سے تین بجے سہ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسی علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں؟ تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے۔قرآن کریم ان کے مرنے اور واپس نہ آنے کا گواہ ہے۔تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسی کی بات کوشن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے تھے۔گالیاں دینے لگے اور کہا کہ اب اس شخص کے کفر میں کیا شک رہا۔اور بڑی غضبناک حالت میں یہ کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔۔۔۔۔پھر بعد اس کے یہ فتوی گفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالا کی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمدا نہ بھیجے گئے۔اور نہ عوام پر ان کا مضمون ظاہر کیا گیا۔یہ صاف اس بات پر دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید لے مرادڈاکٹر عبدالغنی سکنہ جلال پور جٹاں ضلع گجرات پنجاب (مؤلف)