حیات طیبہ

by Other Authors

Page 335 of 492

حیات طیبہ — Page 335

335 مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے۔مگر افسوس امیر پر کہ اس نے کفر کے فتوے پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذات طلب نہ کئے۔۔۔۔۔جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا۔تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کاغذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے۔تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے اور اسی رتی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈالی گئی۔تب اس رہتی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے۔ہنسی اور گالیوں اور لعنت کیساتھ مقتل تک لے گئے۔اور امیر اپنے مصاحبوں کیساتھ اور مع قاضیوں، مفتیوں اور دیگر اہلکاروں کے یہ دردناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہا مخلوق جن کا شمار کرنامشکل ہے۔اس تماشہ کے دیکھنے کے لئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا۔اور پھر اس حالت میں جبکہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے۔امیر اُن کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔انکار کرے۔تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقع ہے جو تجھے دیا جاتا ہے۔اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہو سکتا ہے اور جان کی کیا حقیقت ہے اور عیال و اطفال کیا چیز ہیں۔جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔تب قاضیوں اور مفتیوں نے شور مچایا کہ کافر ہے! کافر ہے! اس کو جلد سنگسار کرو۔اس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خاں اور قاضی اور عبدالاحد کمید ان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں۔تب امیر نے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں۔آپ چلا دیں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے۔اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا۔جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی۔پھر بعد اس کے بدقسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔پھر کیا تھا۔اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے