حیات طیبہ — Page 333
333 وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔۔۔۔سو انہوں نے مناسب سمجھا کہ بریگیڈیر محمد حسین کو خط لکھا جائے۔تا وہ مناسب موقعہ پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں امیر کے گوشگزار کر دیں اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کے لئے روانہ ہوا تھا مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہوگئی اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا اور رسول کا حکم ہے اس مجبوری سے مجھے قادیان ٹھہر نا پڑا۔اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا۔بلکہ قرآن وحدیث کے رُو سے اسی امر کو ضروری سمجھا۔جب یہ خط برگیڈیئر محمد حسین کو توال کو پہنچا۔تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اس وقت پیش نہ کیا۔مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا کسی طرح پتہ لگ گیا کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا خط ہے اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے۔تب اُس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔۔۔۔۔چونکہ قضا و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی اور آسمان پر وہ برگزیدہ بڑ مرۂ شہداء داخل ہو چکا تھا۔اس لئے امیر صاحب نے ان کے بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور ان کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔اگر یہ دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گذرے۔تو گھوڑے پر سوار تھے اور اُن کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے۔۔۔۔۔اور یہ بھی بیان کیا کہ یہ آٹھ سرکاری سوارخوست سے ہی ان کے ہمراہ کئے گئے تھے۔کیونکہ ان کے خوست میں پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری ان کے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔غرض جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی ان کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا۔اس لئے وہ ظالمانہ جوش سے پیش آئے اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگا دو۔یہ زنجیر وزنی ایک من چوبیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیڑی وزنی آٹھ سیر انگریزی کی لگا دو۔پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے تو بہ کرو کہ قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی۔مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق و باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مسیح