حیات طیبہ — Page 7
7 تھا۔جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔الحاق لے کے موقعہ پر اس خاندان کی جا گیر ضبط ہوگئی۔مگر سات سو روپیہ کی ایک پنشن غلام مرتضی اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اس کے گردونواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکانہ رہے۔اس خاندان نے ۱۸۵۷ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا۔جبکہ افسر موصوف نے تریموگھاٹ پر نمبر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے یہ تیغ کیا۔جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔سے خاندان احمد کے قادیان سے جلا وطنی کے مختصر حالات او پر کسی جگہ حاشیہ میں درج کیا جا چکا ہے کہ مرزاگل محمد صاحب کا انتقال ۱۸۰۰ء میں ہوا۔ان کے انتقال کے بعد مرز اعطا محمد صاحب کے زمانہ میں سکھوں نے دوستانہ ملاقات کے بہانہ سے اندر داخل ہو کر قادیان پر قبضہ کر لیاسہ اور مرزا صاحب موصوف اپنے خاندان سمیت ریاست کپورتھلہ میں بمقام بیگو وال پناہ گزین ہونے پر مجبور ہو گئے یہ ۱۸۰۲ء یا ۱۸۰۳ء کا واقعہ ہے۔یہ ان ایام کا ذکر ہے جبکہ ریاست کپورتھلہ کے والی راجہ فتح سنگھ صاحب تھے۔راجہ فتح سنگھ صاحب آپ کے ساتھ فراخدلی سے پیش آئے اور آپ کے گزارہ کے لئے دو گاؤں کی پیش کش کی لیکن مرزا صاحب موصوف نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر ہم نے یہ گاؤں لے لئے تو ہماری اولاد کی ہمت پست ہو جائے گی اور اپنی خاندانی روایات کو قائم رکھنے کا خیال ان کے دل سے جاتا رہے گا۔مرزا عطا محمد صاحب اس جلا وطنی کے زمانہ میں متواتر گیارہ سال سختیاں جھیلنے کے بعد تخمینا ۱۸۱۴ء میں کپور تھلہ میں ہی انتقال فرما گئے ہے۔آپ کے فرزند مرزا غلام مرتضی صاحب آپ کا جنازہ راتوں رات قادیان لائے اور سکھوں کی مزاحمت کے باوجود اسے بڑی دلیری سے اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کیا۔آپ کی وفات کے بعد یہ خاندان بظاہر بالکل بے سہارا رہ گیا اور یہ حالت کم و بیش بیس برس تک قائم رہی لیکن اب چونکہ حضرت اقدس مسیح پاک کی ولادت کا وقت قریب آتا جارہا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کی واپسی کا غیب سے سامان کر دیا۔اور وہ اس طرح کہ ۱۸۳۴ء یا ۱۸۳۵ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے آپ کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو قادیان کی ریاست کے پانچ گاؤں واپس کر دیئے۔جو سکھوں کی عملداری تک یعنی متواتر چودہ سال آپ کے قبضہ میں رہے مگر جب ۲۹/ مارچ ۱۸۳۹ ء کو پنجاب کا علاقہ انگریزی عملداری میں شامل کر لیا گیا۔تو بعض باغی لے یعنی جب پنجاب کا الحاق انگریزی عملداری کیسا تھ ہو گیا۔(مولف) سے تذکرہ رؤسائے پنجاب جلد دوم صفحہ ۶۷ ۶۸ سے اس معاملہ میں بعض مقامی غیر مسلموں نے بھی بے وفائی کا مظاہرہ کیا تھا۔(مؤلف) کے بحوالہ قادیان صفحه ۷۸