حیات طیبہ — Page 8
8 سرداروں کی جاگیروں کے ساتھ قادیان کی جاگیر بھی چھین لی گئی اور اشک شوئی کے طور پر سات سوروپیہ کی ایک معمولی سی پینشن اس خاندان کے لئے مقرر کر دی گئی۔جب پنجاب میں انگریزوں کا تسلط قائم ہوگیا تو جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے آپ نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت پوری طرح اس نئی حکومت کے ساتھ بھی تعاون کیا۔آپ کے بقیہ حالات انشاء اللہ آئندہ صفحات میں حضرت اقدس کے سوانح کے ساتھ ساتھ بیان ہوتے رہیں گے۔اب چونکہ حضرت اقدس کے سوانح کا آغاز ہو رہا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر آپ کے خاندان کا مختصر سا شجرہ نسب بھی درج کر دیا جائے۔شجرہ نسب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام مرزا ہادی بیگ ( مورث اعلیٰ جو ۱۵۳۰ء میں سمر قند سے قادیان میں آئے ) محمد سلطان محمد دین محمد غوث عبدالباقی چاند بیگ افضل بیگ عابد بیگ محمد بیگ رحیم بیگ عبدالنبی جعفر بیگ غازی بیگ بہاؤالدین الم دین عزیز دین محمد دلاور محمد فاضل فیض اللہ محمد اسلم محمد صادق محمد قائم میر محمد شادی بیگ مرزا افیض محمد محمد حسین دین محمد مرز اگل محمد مرزا غلام محی الدین مرزا عطا محمد مرزا قاسم بیگ مرزا غلام مصطفی مرزا غلام مرتضی مرزا غلام احمد مرزا غلام محی الدین مرزا غلام احمد مرزا مرز اغلام حیدر مرزا غلام قادر حضرت مرزا غلام احمد صاحب مرزا امام الدین مرزا نظام الدین مرزا کمال الدین بانی سلسلہ احمدیہ مرز اغلام حسین ( یہ مفقود الخبر ہو گئے تھے) نوٹ ۱: حضرت اقدس چونکہ محمد سلطان کی نسل سے تھے اس لئے یہاں انہی کی اولاد کا شجرہ نسب درج کیا گیا ہے اور وہ بھی اختصار کے ساتھ۔تفصیل کے لئے دیکھئے سیرۃ المہدی حصہ اوّل طبع اوّل صفحہ ۱۱۶۔مولفہ حضرت