حیات طیبہ

by Other Authors

Page 6 of 492

حیات طیبہ — Page 6

6 کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر ، کمشنر اُن کے مکان پر ان کی ملاقات کرتے تھے۔“ 1 سر لیپل گریفن کی شہادت میرے خیال میں اگر اس موقعہ پر سر لیپل گریفن کا وہ نوٹ درج کر دیا جائے جو انہوں نے اپنی محولہ بالا کتاب ”تذکرہ روسائے پنجاب میں حضرت احمد قادیانی کے خاندان کے حالات کے متعلق لکھا ہے تو فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔صاحب موصوف لکھتے ہیں : شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مسٹمی ہادی بیگ باشندہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بود و باش اختیار کی۔یہ کسی قدر لکھا پڑھا آدمی تھا اور قادیان کے گردو نواح کے ستر کے مواضع کا قاضی یا مجسٹریٹ مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اُس نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا۔جو بدلتے بدلتے قادیان سے ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہد حکومت میں معزز عہدوں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنہیا مسلوں سے جن کے قبضہ میں قادیان کے گردونواح کا علاقہ تھا۔ہمیشہ لڑتے رہے اور آخر کار اپنی تمام جا گیر کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جاگیر پر قابض ہو گیا تھا۔غلام مرتضی کو قادیان واپس بلا لیا اور اُس کی جڑی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اُسے واپس دیدیا۔اس پر غلام مرتضی اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضی ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔۱۸۴۱ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور گلو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ ء میں ایک پیادہ فوج کا میدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارہ کے مفسدہ میں اس نے کار ہائے نمایاں کئے اور جب ۱۸۳۸ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جارہا تھا۔تو غلام محی الدین اور دوسرے جا گیر داران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خاں ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑ کا یا اور مصر صاحبد یال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ له کتاب البریہ طبع اول حاشیہ صفحہ ۱۳۴ تا صفحہ ۱۴۶۔سے یہ میچ نہیں ہے صحیح یہ ہے کہ پچھلی گاؤں تھے جیسا کہ او پر گذر چکا ہے۔(مرتب) سے تذکرہ روسائے پنجاب میں اس نوٹ کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ عربی زبان میں جسے ضاد بولتے ہیں اکثر پنجابی میں دال سے بدل جاتا ہے۔کہ یہ ۱۸۳۲ ء کا واقعہ ہے بحوالہ کتاب ” قادیان صفحہ ۷۹