حیات طیبہ

by Other Authors

Page 5 of 492

حیات طیبہ — Page 5

5 لے مرز اعطاء محمد صاحب اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی میرزا عطا محمد صاحب فرزند رشید اُن کے گدی نشین ہوئے۔اُن کے وقت میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر قضاو قدر اُن کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس ایک قادیان رہ گئی اور قادیان اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا اور اس کے چار برج تھے اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند تو ہیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل پر اس پر جاسکتے تھے اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اول فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور اُن کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا۔اور بعض مسجد میں جن میں اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھر مسالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلا یا گیا جس میں پانسونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا۔اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردو زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے۔اور وہ پنجاب کی ایک ریاست سے میں پناہ گزین ہوئے۔تھوڑے عرصہ کے بعد انہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے مرز اغلام مرتضی صاحب دادا صاحب کو زہر دی گئی۔پھر رنجیت سنگھ کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرز اغلام مرتضی قادیان میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے۔کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی۔سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے پشاور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا۔غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی اس نواح میں مشہور رئیس تھے۔گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رؤسائے پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے اور بسا اوقات اُن لے قادیان کے قلعے میں آمد ورفت کیلئے چار دروازے تھے جن کے نام یہ ہیں۔بٹالی دروازہ۔پہاڑی دروازه - موری دروازہ اور منگلی دروازہ قادیان مرتبہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم صفحہ ۶ طبع اوّل سے تخمینا ۱۸۰۲ء میں قادیان صفحہ ۷۹ سے مرا دریاست کپورتھلہ۔