حیات طیبہ

by Other Authors

Page 4 of 492

حیات طیبہ — Page 4

4 فضلاء قادیان میں جمع ہو گئے تھے اور عجب تریہ کہ کئی کرامات ان کی ایسی مشہور ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کثیر مخالفانِ دین کا بھی گواہی دیتا رہا ہے۔غرض وہ علاوہ ریاست اور امارت کے اپنی دیانت اور تقویٰ اور مردانہ ہمت اور اولوالعزمی اور حمایت دین اور ہمدردی مسلمانوں کی صفت میں نہایت مشہور تھے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دور رہنے والے اور بہادر اور با رعب آدمی تھے۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ اس زمانہ میں ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیان میں آیا۔جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے مرزا گل محمد صاحب کے مدبرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور عقل اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دین اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا۔اور ان کے مختصر دربار کو عقلمند اور نیک چلن اور بہادروں سے پر پایا۔تب وہ چشم پر آب ہو کر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایک ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضرور یہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا۔کہ ایام کسل اور نالیاقتی اور بد و صفی ملوک چغتائیہ میں اس کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے۔اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پر دادا صاحب موصوف یعنی میرزا گل محمد نے چکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے، وفات پائی تھی۔بیماری کے غلبہ کے وقت اطباء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالبا اس سے فائدہ ہوگا مگر جرات نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں۔آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بہت سی دوائیں ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں۔آخر چند روز کے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے اے موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ اختیار نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔افسوس نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بکلی لا پرواہ ہو کر اور خدا تعالیٰ سے سارے علاقے تو ڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیں اور شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت پلید اور نا پاک کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلد مرجاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔ا مرز اگل محمد صاحب کا انتقال غالباً ۱۸۰۰ء میں ہوا۔بحوالہ سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۲۹