حیات طیبہ

by Other Authors

Page 3 of 492

حیات طیبہ — Page 3

3 ،، سے دیہات بطور جا گیران کو ملے چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہوگئی۔“ مرز افیض محمد صاحب مرزا ہادی بیگ کی وفات کے بعد ان کے خاندان کی عظمت و جلال میں اضافہ ہوتا گیا۔یہاں تک کہ ان کی نویں پشت میں مرزا فیض محمد صاحب کے عہد اقتدار میں اس خاندان کے سلطنت مغلیہ کے ساتھ اور بھی گہرے تعلقات قائم ہو گئے۔چنانچہ ۱۷۱۶ء میں شاہنشاہ فرخ سیر نے مرزا فیض محمد صاحب کو ہفت ہزاری کا عہدہ عطا کر کے ”عضد الدولہ“ کا خطاب دیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خود اپنے طور پر سات ہزار نو جوانوں کی فوج رکھ سکتے تھے اور یہ اعزاز اس زمانہ میں معتمد ترین افراد سلطنت کو دیا جاتا تھا۔مرز اگل محمد صاحب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بسلسلہ بیان مندرجہ بالا کتاب البریہ میں بیان فرماتے ہیں: دو سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پر دادا مرزا گل محمد صاحب ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔جن کے پاس اس وقت ۸۵ گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے۔تاہم ان کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دیئے تھے جو اب تک ان کے پاس ہیں۔غرض وہ طوائف الملوکی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے۔ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دستر خوان پر روٹی کھاتے تھے اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے ان کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال اللہ اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔یہاں تک کہ چکی پینے والی عورتیں بھی پنجوقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں اور گردونواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے۔قادیان کو جو اس وقت اسلام پور کہلا تا تھا۔مکہ کہتے تھے۔کیونکہ اس پر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا اور قادیان میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔میں نے خود اس زمانہ کے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیان کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا۔جس میں حامیان دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے اور اس نواح میں یہ واقعات مشہور ہیں کہ مرزا گل محمد صاحب مرحوم مشائخ وقت کے بزرگ لوگوں میں اور صاحب خوارق اور کرامات تھے جن کی صحبت میں رہنے کے لئے بہت سے اہل اللہ اور صلحاء اور کتاب البریہ حاشیہ صفحہ ۱۲۴