حیات طیبہ

by Other Authors

Page 2 of 492

حیات طیبہ — Page 2

2 خیر باد کہہ کر عازم ہند ہوئے۔حضرت اقدس ان کی ہمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بابر بادشاہ کے وقت میں کہ جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا۔بزرگ اجداد اس نیازمند الہی کے خاص سمر قند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا۔ہجرت اختیار کر کے دلی میں پہنچے اور دراصل یہ بات ان کا غذات سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے؟ لیکن یہ امرا کثر کا غذات کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ساتھ ہی پہنچے ہوں یا کچھ دن بعد آئے ہوں۔مگر انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا خاص تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں شمار کئے گئے تھے۔چنانچہ بادشاہ وقت سے بہت سے دیہات بطور جاگیر کے انہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلقدار ٹھہرائے گئے۔حضرت اقدس کے خود نوشت خاندانی حالات اس موقعہ پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی بعض کتب میں اپنے خاندان کے متعلق جو حالات خود اپنے قلم سے درج فرمائے ہیں۔انہیں نقل کر دیا جائے۔حضور فرماتے ہیں : ”ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریبا دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جولاہور سے تخمینا پچاس کوس بگو شہ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہو گئے۔جس کو انہوں نے آبا دکر کے اس کا نام اسلام پور رکھا جو پیچھے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کی جگہ قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور اس سے بگڑ کر قادیان شعبن گیا۔اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریبا ساٹھ کوس ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا۔غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں۔اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔مجھے کچھ معلوم نہیں۔کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمر قند سے اس ملک میں آئے مگر کاغذات سے پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ریاست میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اُس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔پھر اس ملک میں آکر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت ا ملک ترکستان کے ازالہ اوہام حاشیه صفحه ۱۲۱، ۱۲۲ طبع اوّل سے قادیان بٹالہ سے ۱۲ میل، امرتسر سے ۳۶ میل اور لاہور سے ستر ۷۰ میل دور ہے (مولف)