حیات طیبہ

by Other Authors

Page 380 of 492

حیات طیبہ — Page 380

380 چنانچہ حضرت اقدس کے وصال کے موقعہ پر تمام جماعت میں سے کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ حضرت اقدس کے بعد سلسلۂ خلافت جاری نہیں ہوگا بلکہ انجمن آپ کی خلیفہ ہو گی چنانچہ جن لوگوں نے بعد کو سلسلہ خلافت سے انکار کیا ہے۔انہوں نے بھی حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کے دست حق پرست پر حضرت اقدس کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے آپ کی بیعت کی اور اسے ”مطابق رسالہ الوصیت“ قرار دیا اور انہوں نے اس امر کو اپنے دستخطوں کیساتھ ساری جماعت میں شائع کیا۔جیسا کہ آگے چل کر وضاحت سے معلوم ہوگا۔تصنیفات ۱۹۰۵ء (۱) تصنیف براہین احمدیہ حصہ پنجم۔براہین احمدیہ کے پہلے چارحصوں میں جن پیشگوئیوں کا ذکر تھا ان میں سے اکثر پوری ہو چکی تھیں۔اوّل تو حضرت اقدس نے ان کا اس کتاب میں ذکر کیا۔دوم معجزہ کی اصل حقیقت اور ضرورت پر بحث فرمائی۔سوم زلزلہ کی پیشگوئی پر جو اعتراضات پیسہ اخبار لاہور نے کئے تھے۔ان کا مفصل جواب دیا۔علاوہ ازیں چند آیات سورہ مومنون کی ایسی لطیف تفسیر فرمائی ہے کہ اس کی نظیر نظر نہیں آتی۔یہ کتاب آپ نے ۱۹۰۵ء کے ابتداء میں لکھنا شروع کی تھی اور اس کا نام براہین احمدیہ کے علاوہ نصرت الحق بھی رکھا تھا یہ کتاب حضور کے وصال کے بعد ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی۔(۲) تصنیف و اشاعت الوصیت۔اس رسالہ کے متعلق او پر مفصل ذکر ہو چکا ہے۔تزلزل در ایوان کسری فتاد الهام ۱۵ جنوری ۱۹۰۹ء ایران ایک بہت پرانا تاریخی ملک ہے۔مدت ہائے دراز سے اس ملک کے بادشاہوں کا لقب کسری چلا آتا تھا۔حضرت اقدس کو ۱۵ جنوری ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا۔” تزلزل در ایوان کسری فتاؤ جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے۔اس وقت ایران پر شاہ مظفر الدین حکمران تھے اور اس الہام سے چند ماہ قبل ۱۹۰۵ء میں باشندگانِ ملک کے مطالبات کو قبول کر کے پارلیمنٹ کے قیام کا اعلان کر چکے تھے اور ایران کے لوگ بادشاہ کے اس اعلان سے بہت خوش تھے اور بادشاہ بھی اپنی مقبولیت پر خوش ہورہا تھا، لیکن رب العرش خدا جس نے الہام ” تزلزل در ایوان کسری فتاد نازل فرما یا تھا وہ اپنے اس الہام کو پورا کرنا چاہتا تھا۔منظفر الدین قاچار شہنشاہ ایران ۱۹۰۷ء میں وفات پاگئے اور ان کا ولی عہد مرزا محمدعلی اپنے باپ کی جگہ تخت نشین ہوا۔اگر چہ اس نے بھی تخت حکومت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا۔مگر خدا کی قدرت سے ملک میں ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ بادشاہ اور مجلس میں مخالفت شروع ہوگئی۔مجلس بادشاہ کے بعض درباریوں کو فتنہ کا بانی مبانی سمجھتی تھی اور اس کا مطالبہ تھا