حیات طیبہ

by Other Authors

Page 379 of 492

حیات طیبہ — Page 379

379 ان شرائط کے علاوہ حضور نے آخر میں ایک امر کا اضافہ ان الفاظ میں بھی کیا ہے کہ: ”ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں۔اور کوئی مالی خدمت نہیں کرسکتا۔اگر یہ ثابت ہو کر وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔“ انجمن کار پردازان مصالح قبرستان کا قیام حضور نے اس مقبرہ کے انتظام کے لئے ایک انجمن بھی قائم فرمائی۔جس کا نام ”انجمن کار پردازانِ مصالح قبرستان رکھا۔حضرت اقدس نے اس انجمن کا صدر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کو مقرر فر ما یا۔اور اس بات کولازمی قرار دیا کہ کم از کم دو نمبر اس انجمن کے عالم دین ہونے چاہئیں۔حضور نے اس امر کی بھی تصریح فرمائی کہ اس مقبرہ کے قیام کا یہ مطلب نہیں کہ یہ زمین کسی کو بہشتی بنادے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ایسا تصرف کرے گا کہ بہشتی ہی اس مقبرہ میں دفن ہو سکے گا۔اے صدر انجمن کی جانشینی کا مطلب حضرت اقدس نے لکھا ہے کہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔حضور کے اس فقرہ سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ جب حضور نے وصایا کے مال کی وصولی اور اشاعت و خدمتِ اسلام پر خرچ کرنے اور جماعت کے نظام کے لئے اپنے بعد ایک انجمن تجویز فرمائی۔جسے اپنا جانشین قرار دیا اور جس کے فیصلہ کو جو کثرت رائے سے ہو جائے۔اپنی وفات کے بعد قطعی قراردیا۔تو ظاہر ہے کہ تمام جماعت کی مطاع وہی انجمن ہوئی اور اس کی کثرت رائے سے جو فیصلہ ہو اس کی اطاعت کرنا افرادِ جماعت کے لئے لازم ہوگا۔معترضین کے اس استدلال کے جواب میں اس امر کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس نے رسالہ الوصیت میں جماعت کے نظام کو چلانے کے لئے دو چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ا۔قدرت ثانیہ کو۔جو حضور کی زندگی میں موجود نہیں تھی۔کیونکہ اس کا آنا حضور کے وصال کے بعد ہی متقذر تھا اور اُس نے وہی کام کرنا تھا۔جو حضرت ابوبکر صدیق نے کیا اور ظاہر ہے کہ اسے خلافت کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔۲ انجمن کو۔جو حضور کی زندگی میں قائم کی گئی۔مگر حضرت اقدس نے اس کے سپر دصرف یہ کام کیا تھا کہ وہ چندوں کی وصولی اور ان کے خرچ کے لئے مناسب تجاویز سوچا کرے اور حسب ہدایت سلسلہ خرچ کیا کرے۔۲؎ لے وہ دیکھئے رسالہ الوصیت