حیات طیبہ — Page 381
381 کہ وہ دربار سے علیحدہ کر دیئے جائیں۔گو بادشاہ نے مجلس کا مطالبہ ماننے کا وعدہ تو کر لیا مگر ساتھ ہی یہ ارادہ بھی کیا کہ وہ طہران کو چلے جائیں۔اس تغیر مکانی کے وقت کا سکوں کی فوج جو بادشاہ کی باڈی گارڈ تھی۔اس کے اور قوم پرستوں کے حمایتیوں کے درمیان بگاڑ پیدا ہو گیا۔اور حضرت اقدس کا الہام اس رنگ میں پورا ہوا کہ ایران کا دار المبعوثین توپ خانہ سے اُڑا دیا گیا اور بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا۔بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں عام بغاوت پھیل گئی۔بالآخر بادشاہ کی باڈی گارڈ فوج بھی جس پر بادشاہ کو بہت ناز تھا، باغیوں کے ساتھ مل گئی اور مرزا محمد علی قاچار کسری ایران کے ایوان میں ایسا تزلزل پڑا کہ اسے پندرہ جولائی 1909ء کو اپنے حرم سمیت روسی سفارتخانہ میں پناہ لینی پڑی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت ہمیشہ کے لئے اس خاندان سے نکل گئی اور کسریٰ کا وجود دنیا سے مٹ گیا۔اہل بنگال کی دلجوئی۔ارفروری ۱۹۰۶ء حضرت اقدس کو ا ر فروری ۱۹۰۶ ء کو یہ الہام ہوا کہ : وو پہلے بنگالہ کی نسبت جو حکم جاری کیا گیا تھا۔اب ان کی دلجوئی ہوگی۔1 اس پیشگوئی کی تفصیل یہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۵ء میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے بنگال کو ایک وسیع صوبہ خیال کر کے اسے دوحصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔(۱) ایک حصہ مشرقی بنگال اور آسام پر مشتمل تھا۔(۲) دوسرا حصہ مغربی بنگال جس میں بہار اور اڑیسہ بھی شامل تھے۔اوّل الذکر کا صدر ڈھا کہ اور ثانی الذکر کا کلکتہ مقرر کر دیا تھا۔مشرقی بنگال میں چونکہ مسلمانوں کی اکثریت تھی۔اس لئے وہ ایک لحاظ سے اسلامی صوبہ بن گیا تھا۔جو ہندوؤں کے لئے ایک ناسور کا حکم رکھتا تھا۔کیونکہ ہند و متحدہ بنگال پر حکومت کرنا چاہتے تھے اور مشرقی بنگال کے الگ ہو جانے کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی صوبہ میں ایک بہت بڑی حیثیت حاصل ہو جاتی تھی جسے کوئی متعصب ہندو ہرگز برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اس تقسیم پر ہندو قوم نے بہت شور مچایا۔جلسے کئے۔جلوس نکالے۔سرکاری عمارات کو نقصان پہنچایا۔ٹرینوں پر بم پھینکے۔بعض انگریزوں کو قتل بھی کیا۔اور اس تقسیم کی منسوخی کے لئے کوشش کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔مگر گورنمنٹ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا لارڈ کرزن اپنی مدت ملازمت ختم کر کے ۱۹۰۵ء کے آخر میں انگلستان چلے گئے۔ان کی جگہ لارڈ منٹو آئے اور انہوں نے بھی ہندوؤں کی ایک نہ مانی۔جب ہندوستان بھر میں تقسیم پختہ سمجھ لی گئی۔اور اس میں رد و بدل کا بظاہر کوئی امکان باقی نہ رہا تو مندرجہ بالا الہام ہوا تھا اور حسب معمول سلسلہ کے اخبارات میں شائع کر دیا گیا تھا۔لوگوں نے اس پر طرح طرح کے اعتراضات کئے۔ه بدر ۱۶ فروری ۱۹۰۶ء