حیات طیبہ — Page 367
367 کے راستہ میں شجاعت اور بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دی ہے وہ دین کا ایک زبر دست پہلوان تھا جس کا نام خود خدا نے اپنے ایک الہام میں مسلمانوں کا لیڈر“ رکھا ہے۔وہ حق کے اسرار کا راز دار تھا اور دینی معارف کا ایک خزانہ تھا۔اگر چہ اس آسمان کے نیچے بڑے بڑے نیک لوگ پیدا ہوئے ہیں۔مگر اس آب و تاب کا موتی کم دیکھنے میں آیا ہے۔اس قسم کے یکرنگ دوست کی جدائی سے دل میں درد اٹھتا ہے لیکن ہم اپنے خدا کے فعل پر ہر حال میں راضی وشاکر ہیں۔“ علاج کے لئے کوشش حضرت اقدس نے مولوی صاحب موصوف کے علاج کیلئے جو کوشش فرمائی اس کا اعتراف حضرت مولوی صاحب کے والد صاحب نے ان الفاظ میں کیا کہ: ر جس اعلیٰ پیمانے پر قادیان میں میرے بیٹے کا علاج کیا گیا ہے۔اگر میں اپنی ساری جائیداد فروخت کر کے بھی اس پیمانے پر علاج کرنا چاہتا تو ناممکن تھا۔اے حضرت مولوی برہان الدین صاحب مسلمی کی وفات ۳ دسمبر ۱۹۰۵ء حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات سے کچھ عرصہ قبل حضرت اقدس کو الہام ہوا تھا کہ: دو شہتیر ٹوٹ گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، فرمایا۔یہ الہام بھی خطرناک ہے۔خدا تعالیٰ ہی اس کے معنی بہتر جانتا ہے۔“ جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی جلد ہی فوت ہو گئے تو معلوم ہوا کہ دو شہتیروں سے مراد یہ دو عالم تھے۔حضرت مولوی صاحب موصوف بھی ایک بہت بڑے عالم و فاضل انسان تھے۔آپ نے ۱۳ دسمبر ۱۹۰۵ء کو صبح کے وقت وفات پائی۔آپ بہت پرانے احمدی تھے اور حضرت اقدس سے آپ نے سب سے پہلی مرتبہ ہوشیار پور میں ملاقات کی تھی جبکہ حضور چلہ کشی کے لئے وہاں تشریف لے گئے تھے۔صوفیانہ مذاق رکھتے تھے اور جماعت کی تعلیم و تربیت میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔اه بدر۔فروری ۱۹۰۶ - ۱۳ بدر ۱۴ ستمبر ۱۹۰۵ء