حیات طیبہ

by Other Authors

Page 366 of 492

حیات طیبہ — Page 366

366 حضرت مولوی صاحب کی وفات ۱۱ را کتوبر ۱۹۰۵ء لیکن کسی مرض سے صحت اعلی پیمانہ کے علاج پر موقوف نہیں۔جب قضا آتی ہے تو کوئی چیز اس کو روک نہیں سکتی۔اللہ تعالی کو یہی منظور تھا کہ وہ حضرت مولوی صاحب کو اپنے قرب میں جگہ دے اس لئے گو انہیں اصل مرض کار بنکل یعنی سرطان سے تو صحت ہو گئی۔بلکہ جب خود انہوں نے پھوڑے کی جگہ پر ہاتھ پھیر کر دیکھا تو فرمایا کہ بس اب میں دو چار روز میں پھرنے لگوں گا مگر پھر ذات الجنب کی وجہ سے سخت بیمار ہو گئے۔درجہ حرارت ۱۰۶ تک پہنچ گیا۔جس کے لئے کوئی علاج اثر پذیر نہ ہوا اور حضرت مولوی صاحب ۱۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو بعد نماز ظہر وفات پاگئے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔اسی روز شام کے قریب حضرت اقدس نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ عام قبرستان میں جو آبادی کے جانب شرق ڈھاب کے قریب واقعہ ہے امانتا دفن کئے گئے۔اس کے بعد جلسہ سالانہ ۹۰۵! ء کے موقعہ پر جبکہ بہشتی مقبرہ کے لئے زمین مخصوص کی جا چکی تھی۔۲۶ / دسمبر کو نماز ظہر و عصر کے بعد آپ کا تابوت قبر سے نکالا گیا اور پھر ۲۷ دسمبر کو ۱۰ بجے کے قریب خود حضرت اقدس نے ایک مجمع کثیر کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور کافی دیر تک آپ کی ترقی درجات کے لئے دعا فرماتے رہے۔پھر آپ کو بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا گیا۔بہشتی مقبرہ میں آپ کی قبر سب سے پہلی قبر ہے۔اس قبر پر حضرت اقدس کی ایک نظم جو حضور نے حضرت مولوی صاحب کی خوبیوں کے اعتراف میں لکھی تھی۔بطور کتبہ پتھر پر کندہ کر کے لگادی گئی۔چند اشعار درج ذیل ہیں۔گے تواں کردن شمار خوبی عبدالکریم آنکه جان داد از شجاعت بر صراط مستقیم حامی دین آنکه یزداں نام اولیڈر نہاد اسرار حق گنجینه دین قویم گرچه جنس نیکواں ایس چرخ بسیار آورد عارف بزاید مادری با این صفا در دل بدرد آید زنجیر ایں چنیں یکرنگ دوست لیک خوشنودیم برفعل ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کہ: خداوند کریم ” مولوی عبدالکریم مرحوم کی خوبیاں کس طرح بیان کی جائیں۔وہ عبدالکریم جس نے دین