حیات طیبہ — Page 368
368 تجویز قیام مدرسه احمد یہ قادیان ان دونوں بزرگ عالموں کی وفات کی وجہ سے جماعت میں ایک خلا سا محسوس ہونے لگا۔چنانچہ یہ تجویز کی گئی کہ جماعت میں علماء پیدا کرنے کے لئے ایک الگ دینی درسگاہ قائم کی جائے۔جس پر مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور جب دسمبر ۱۹۰۵ء کے آخری ہفتہ میں جلسہ سالانہ کے لئے احباب جمع ہوئے۔تو حضرت اقدس نے ایک نہایت درد انگیز تقریر فرمائی جس میں اپنی یہ تجویز دوبارہ پیش فرمائی کہ موجودہ انگریزی مدرسہ کے علاوہ ہمیں ایک ایسی درسگاہ کی بھی ضرورت ہے جس میں ایسے علماء پیدا کئے جائیں جوعربی علوم کے ساتھ ساتھ کسی قدر انگریزی اور دیگر علوم سے بھی واقف ہوں۔حضور کی یہ تقریر سُن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور حضور کے تقریر ختم کرنے کے بعد سب نے بالا تفاق عرض کی کہ جو تجویز بھی حضور کے ذہن میں ہے ہم سب اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کا بوجھ اُٹھانے کے لئے بدل و جان تیار ہیں۔اس کے بعد دیر تک باہمی مشورہ ہوتا رہا۔اور یہ طے پایا کہ علماء اور مبلغ پیدا کرنے کے لئے الگ شاخ قائم کی جائے۔چنانچہ ۶ ۹۰ ! ء سے دینیات کی الگ شاخ جاری کر دی گئی۔سفر دہلی۔۲۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء حضور کی حرم حضرت اماں جان کو اپنے وطن دہلی گئے کافی عرصہ ہو گیا تھا۔کئی دفعہ دہلی جانے کا ارادہ کیا۔مگر بعض موانع پیش آجانے کی وجہ سے اس ارادہ کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں۔اب ایک تقریب یہ بھی پیدا ہوئی کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو آپ کے چھوٹے بھائی تھے وہ دہلی کے سول ہاسپٹل میں ڈیوٹی پر لگ گئے۔حضرت اماں جان اپنے والد محترم حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہورہی تھیں کہ حضرت اقدس نے اپنی عادت کے مطابق استخارہ کیا۔جس پر آپ کو بتایا گیا کہ آپ کو بھی دہلی ساتھ جانا چاہئے۔اس پر آپ چند خدام سمیت تیار ہو گئے۔۲۲/اکتوبر ۱۹۰۵ ء کو اتوار کے روز صبح کے وقت آپ قادیان سے روانہ ہوئے۔روانگی سے قبل آپ نے رویاء میں دیکھا کہ: ” دہلی گئے ہیں۔تو تمام دروازے بند ہیں۔پھر دیکھا کہ ان پر قفل لگے ہوئے ہیں۔پھر دیکھا کہ کوئی شخص کچھ تکلیف دینے والی شئے میرے کان میں ڈالتا ہے۔میں نے کہا کہ تم مجھے کیا دُکھ دیتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ دکھ دیا گیا تھا۔اس رویاء سے معلوم ہوتا تھا کہ دہلی والوں کے دلوں پر ایسے قفل لگے ہوئے ہیں کہ وہ بہت کم ہی کوئی نیک لے بدر ۲۷/اکتوبر ۱۹۰۵ء