حیات طیبہ

by Other Authors

Page 243 of 492

حیات طیبہ — Page 243

243 کے خلاف جو کفر کے فتوے حاصل کئے تھے اور آپ کو نعوذ باللہ من ذلک کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب وغیرہ وغیرہ خطابات سے یاد کیا تھا۔ان سب کو خود اپنے قلم سے عدالتی تحریر پر دستخط کر کے باطل قرار دے دیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے کئے دھرے پر پانی پھیر دیا۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک وہ فتوے صحیح تھے۔تو عدالت میں مولوی صاحب کو کہنا چاہئے تھا کہ صاحب! میرے نزدیک تو یہ شخص واقعی کافر اور کذاب ہے۔میں تو ایسے الفاظ لکھنے سے باز نہیں رہ سکتا۔مگر مولوی صاحب ڈر گئے۔حضرت اقدس بھی فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی اس سے زیادہ اور کیا ذلت ہوگی کہ اس شخص نے اپنی عمارت کو اپنے ہاتھوں سے گرایا۔‘لے باقی رہا حضور کا دستخط کرنا۔سوحضور نے تو ابتدا کبھی کسی کو کافر اور کذاب وغیرہ خطاب سے یاد کیا ہی نہیں۔حضور کے قلم سے تو جب کبھی کسی کے لئے کوئی سخت لفظ نکلا ہے تو دفاعی طور پر اور وہ بھی نسبتا و مقابلتا نرم۔سواب جب حملہ آور رک گیا۔تو دفاع کرنے والے کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ سخت الفاظ استعمال کرے۔ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ آئندہ کے لئے آپ کو بھی موت اور ذلت کی پیشگوئی کرنے سے روکا گیا۔تو اس کا جواب حضرت اقدس کی زبان مبارک سے یہ ہے کہ: یہ ہماری کارروائی خود اس وقت سے پہلے ختم ہو چکی تھی کہ جب ڈوئی صاحب کے نوٹس میں ایسا لکھا گیا بلکہ ہم اپنے رسالہ انجام آتھم میں تصریح لکھ چکے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو آئندہ مخاطب کرنا بھی نہیں چاہتے۔جب تک یہ ہمیں مخاطب نہ کریں اور ہم بہ دل بیزار اور متنفر ہیں کہ ان لوگوں کا نام بھی لیں چہ جائیکہ ان لوگوں کے حق میں پیشگوئی کر کے اسی قدر خطاب سے ان کو عزت دیں۔ہمارا مدعا تین فرقوں کی نسبت تین پیشگوئیاں تھیں۔سو ہم اپنے اس مدعا کو پورا کر چکے۔اب کچھ بھی ہمیں ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کی موت اور ذلت کی نسبت پیشگوئی کریں اور یہ الزام کہ عموما الہامات کی اشاعت کرنے اور ہر قسم کی پیشگوئیوں سے روکا گیا۔یہ ان لوگوں کی باتیں ہیں جو وعید لعنۃ اللہ علی الکاذبین میں داخل ہیں۔اب بھی ہم اس مقدمہ کے بعد بہت سی پیشگوئیاں کر چکے ہیں۔پس یہ کیسا گندہ جھوٹ ہے کہ یہ لوگ بے خبر لوگوں کے پاس بیان کر رہے ہیں۔رہا یہ سوال کہ محمدحسین کو کچھ زمین مل گئی ہے یعنی بجائے ذلت عزت ہوگئی ہے۔یہ نہایت بیہودہ خیال ہے۔بلکہ یہ اس وقت اعتراض کرنا چاہئے تھا کہ جب اس زمین سے محمد حسین کچھ منفعت اُٹھا لیتا۔ابھی تو وہ ایک ابتلاء کے نیچے ہے۔کچھ معلوم نہیں کہ اس زمین سے انجام کار کچھ له از اشتہارے ادسمبر ۱۸۹۹ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد هشتم صفحه ۱۰۹