حیات طیبہ — Page 242
242 اس سلسلہ میں حضور کو معہ خدام پٹھانکوٹ اور دھار یوال میں مقدمہ کی پیروی کرنے کے لئے جانا پڑا۔مگر ڈپٹی کمشنر کے تبدیل ہو جانے کی وجہ سے پٹھانکوٹ میں تو کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔دھار یوال میں مولوی محمد حسین صاحب کے وکیل مسٹر ہر برٹ نے ڈپٹی کمشنر مسٹر ڈوئی کے روبرو یہ عذر اٹھایا کہ جدید ضابطہ کی رو سے ایک ہی وقت میں مولوی محمد حسین صاحب اور مرزا صاحب پر مقدمہ نہیں چلا یا جا سکتا اس قانونی نکتہ کوڈ پٹی کمشنر نے صحیح تسلیم کیا اور مقدمہ کی پیشی ۱۴ فروری ۹۹ مقرر کر دی۔حضرت اقدس نے اس مقدمہ میں جوڈیفنس تیار کیا وہ یہ تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ جو جو تنازعات تھے ان سب کا ذکر کیا اور پھر عدالت کو یہ بتایا کہ میں نے ہرگز مولوی صاحب کی موت یا ہلاکت کی پیشگوئی نہیں کی میں نے تو مثلی ذلّت کی پیشگوئی کی تھی۔مسٹر ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جب حضرت اقدس کے ڈیفنس کو بغور پڑھا۔تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مرزا صاحب کے مخالفین نے جوسخت الفاظ اور گندی تحریریں لکھی ہیں۔مرزا صاحب نے تو اسکے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں لکھا۔چنانچہ اس نے مقدمہ خارج کر دیا اور حضرت اقدس سے کہا کہ ان گندے اشتہارات کا جواب دینے کی بجائے تو آپ کو عدالت میں چارہ جوئی کرنی چاہیے تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بھی مقدمہ کی کارروائی سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔مجسٹریٹ نے قصہ مختصر کرنے کے لئے انہیں بھی بلا لیا۔اور ایک نوٹس لکھ کر حضرت اقدس اور مولوی محمد حسین صاحب دونوں سے اس پر دستخط کر والئے۔اور وہ نوٹس یہ تھا۔دو آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشنگوئی نہ کرے۔کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب نہ سمجھے۔کوئی کسی کو مباہلہ کے لئے نہ بلاوے اور قادیان کو چھوٹے کاف سے نہ لکھا جاوے اور نہ بٹالہ کوط کے ساتھ اور ایک دوسرے کے مقابل پر نرم الفاظ استعمال کریں۔بدگوئی اور گالیوں سے مجتنب رہیں اور ہر ایک فریق حتی الامکان اپنے دوستوں اور مریدوں کو بھی اس ہدایت کا پابند کرے اور یہ طریق نہ صرف باہم مسلمانوں میں بلکہ عیسائیوں سے بھی یہی چاہئے۔“ مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت ہر پہلو سے مکمل ہو گئی مولوی محمد حسین صاحب نے یہ مقدمہ کیا تو اس لئے تھا کہ نعوذ باللہ من ذلک حضرت اقدس کی اس مقدمہ کی وجہ سے ہتک ہوگی۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت اقدس کو تو اس سے ذرہ بھر بھی نقصان نہ پہنچا۔مگر مولوی صاحب کی تذلیل ہر پہلو سے مکمل ہوگئی اور وہ اس طرح کہ مولوی صاحب نے تمام ہندوستان میں پھر کر حضرات علماء سے آپ