حیات طیبہ — Page 244
244 زیر باری ہوگی یا کچھ منفعت ہوگی ماسوا اس کے کنز العمال کی کتاب المزارعہ میں یعنی صفحہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث موجود ہے کہ لَا تَدْخُلُ سِكَةُ الْحَرْثِ عَلَى قَوْمٍ إِلَّا أَذَلَّهُمُ اللهُ (طب عن ابی یمامہ ) یعنی کھیتی کا لوہا اور آلہ کسی قوم میں نہیں آتا جو اس قوم کو ذلیل نہیں کرتا۔۔۔۔۔رہی یہ بات کہ محمدحسین کا کسی ریاست میں وظیفہ مقرر ہو گیا ہے۔یہ ایسا امر ہے کہ اس کو کوئی دانشمند عربات قرار نہیں دے گا۔ان ریاستوں میں تو ہر قسم کے لوگوں کے وظیفے مقرر ہیں۔جن میں سے بعض کے کارناموں کا ذکر بھی قابل شرم ہے۔پھر اگر محمد حسین کا وظیفہ بھی مقرر کر دیا تو کس عزت کا موجب ہوا۔بلکہ اس جگہ تو وہ فقرہ یاد آتا ہے کہ بِئْسَ الْفَقِيرُ عَلَى بَابِ الْأَمِير - اب رہ گئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے شاگرد ابوالحسن تبتی اور جعفر زٹلی۔سو وہ بھی حضرت اقدس کی اس پیشگوئی کے مطابق کہ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلى يَدَيْهِ وَيُوثَقُ لا یعنی ” ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور روکا جائے گا اپنی گندی اور بے حیائی کی تحریروں سے روکے گئے۔تصنیفات ۱۸۹۸ء ا۔کتاب البریہ۔اس کتاب میں جو ۲۴ جنوری ۱۸۹۸ء کو شائع ہوئی۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے مقدمۂ اقدام قتل کا مفصل حال درج ہے اور نمونہ کے طور پر ان گالیوں کا بھی ذکر ہے جو پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودی تھی۔اور گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر ان گالیوں کے جواب میں ہماری تحریر میں بھی کسی قدر تلخی پیدا ہو جائے۔تو یہ ایک دکھے ہوئے دل کا غبار ہے۔اس کتاب میں اس سوال کا بھی مفصل جواب دیا گیا ہے کہ یہ مقدمہ میرے پر کیوں بنایا گیا؟ اپنے خاندانی اور ذاتی حالات بھی اس میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اور اپنے دعاوی اور دلائل بھی۔عیسائیت کے رڈ میں یہ ایک ایسی بے نظیر کتاب ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔۲۔البلاغ : اس رسالہ کا دوسرا نام فریاد درد ہے۔یہ رسالہ زیادہ تر عیسائیوں کی دل آزار کتاب ”اُمہات المومنین سے متعلق ہے۔اس رسالہ میں حضرت اقدس نے انجمن حمایت اسلام کے اس میموریل کا ذکر فرمایا ہے۔جو انجمن مذکور نے گورنمنٹ کی خدمت میں اس اشتعال انگیز اور سخت دل دکھانے والی کتاب کو ضبط کرنے کے بارہ میں بھیجا تھا اور فرمایا ہے کہ اس قسم کی دل آزار کتابوں کے خطرناک اور زہریلے اثر کو دور کرنے کا ذریعہ یہ نہیں کہ لے از اشتہار مورخہ ۱۷ دسمبر ۸۹۹ مندرجه تبلیغ رسالت جلد ہشتم که از اشتہار ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء