حیات طیبہ — Page 222
222 بالکل بری قرار دیا اور اس لحاظ سے دنیائے احمدیت کی نظر میں ایک باوقار تاریخی آدمی بن گیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ” آپ ان عیسائیوں کے برخلاف مقدمہ کر سکتے ہیں۔حضرت اقدس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی اس بات کا جو جواب دیا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے یعنی فرمایا کہ: عیسائیوں سے ہمارا مقدمہ تو آسمان پر چل رہا ہے۔ہمیں آسمانی عدالت کافی ہے، دنیا کی عدالتوں میں ہم کوئی مقدمہ نہیں چلانا چاہتے۔“ حضرت اقدس کی بلندی اخلاق کے متعلق مولوی فضل الدین صاحب وکیل چیفکورٹ پنجاب کا بیان مضمون بہت طویل ہوتا جارہا ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں قارئین کی طبائع پر گراں نہ گزرے مگر میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے مجبور ہوں کہ جن واقعات سے حضرت اقدس کی بلندی اخلاق اور شانِ عظیم کا اظہار ہوتا ہو وہ ناظرین کے سامنے ضرور رکھ دوں۔لالہ دینا نا تھ صاحب ایڈیٹر اخبار ”ہندوستان و دیش نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر اخبار الحکم سے بیان کیا کہ: میں جناب مرزا صاحب کو ایک مہا پرش اور روحانی آدمی کے لحاظ سے بہت بڑے مرتبہ کا انسان مانتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ان کے متعلق ایک واقعہ سے ہوا۔حکیم غلام نبی زبدۃ الحکماء کے مکان پراکثر دوستوں کا اجتماع شام کو ہوا کرتا تھا۔میں بھی وہاں چلا جا تا تھا۔ایک روز وہاں کچھ احباب جمع تھے۔اتفاق سے مرزا صاحب کا ذکر آ گیا۔ایک شخص نے ان کی مخالفت شروع کی لیکن ایسے رنگ میں کہ وہ شرافت اور اخلاق کے پہلو سے گری ہوئی تھی۔مولوی فضل الدین صاحب مرحوم کو یہ سن کر جوش آ گیا اور انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا کہ میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں اُن کے دعاوی پر میرا یقین نہیں۔اس کی وجہ خواہ کچھ ہولیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا میں قائل ہوں۔میں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگ مقدمات کے سلسلہ میں میرے پاس آتے ہیں۔بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی و ہم بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یار یا کاری سے کام لیں گے انہوں نے مقدمات کے سلسلہ میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی تو بلا تامل بدل