حیات طیبہ — Page 221
221 ہمارا وقت ضائع نہ کرو ہم صرف اصلیت دریافت کرنا چاہتے ہیں تو وہ کپتان صاحب بہادر کے پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا اور کہا کہ میرا پہلا بیان سراسر جھوٹا تھا اور ڈاکٹر مارٹن کلارک اور ان کے ساتھ پادریوں نے ڈرا دھمکا کر اور کئی قسم کے لالچ دیکر مجھ سے دلوایا تھا۔چنانچہ جو بات میں بھول جاتا تھا۔اسے پنسل سے میرے ہاتھ پر لکھ دیتے تھے۔تائیں موقعہ پر دیکھ کر بیان کر سکوں غرض سچی بات یہی ہے کہ مجھے مرزا صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو مارنے کے لئے ہرگز نہیں بھیجا۔یہ سارا قصہ ہی جھوٹا ہے اور یہ سب باتیں میں نے خوف اور ترغیب کے ماتحت بیان کی ہیں۔اس کے بعد اُس نے صحیح صحیح بیان دیا۔جس کی کپتان صاحب پولیس نے اس کے رو بروڈ پٹی کمشنر صاحب سے تصدیق کروائی۔یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ جب عیسائیوں کو اس بات کا علم ہوا کہ عبدالحمید نے اپنی سابقہ جھوٹی کہانی ترک کر کے صحیح صحیح بیان دے دیا ہے تو وہ بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے ایک شخص عبد الغنی کو اس کے پاس بھیجا۔جس نے اسے کہا کہ اپنے پہلے بیان کے مطابق پھر بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے۔“عبدالحمید نے یہ بات بھی کپتان صاحب پولیس کو بتادی۔لے مقدمہ کا فیصلہ- ۲۳ / اگست ۱۸۹۷ تیس اگست ۱۸۹۷ء کو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کو مقدمہ کا فیصلہ سنانا تھا۔مخالف مولویوں، پنڈتوں اور پادریوں کو یقین تھا کہ اس مقدمہ میں ایک بہت بڑے پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کا ہاتھ ہے۔مرزا صاحب کو بڑی سنگین سزا ملے گی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ جناب ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے آپ کو صاف طور پر بری قرار دیدیا ہے تو اُن کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا اور وہ کچہری میں ٹھہر نہیں سکے۔کپتان ڈگلس کی اخلاقی جرات قارئین کو یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پہلے مسیح پر بھی یہودیوں کی سازش سے ایک مقدمہ چلایا گیا تھا مگر پہلے مسیح کے وقت جو مجسٹریٹ تھا یعنی پلاطوس۔وہ گویا جانتا تھا کہ حضرت مسیح بے گناہ ہیں مگر وہ یہودیوں سے مرعوب ہو گیا اور اس نے اپنی ضمیر کے خلاف حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکائے جانے کا حکم دیدیا۔مگر اس مجسٹریٹ نے اس قدر اخلاقی جرات دکھائی اور انصاف کو مدنظر رکھا کہ نہ تو اس نے اپنے ہم مذہب پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کا کچھ لحاظ کیا اور نہ اس نے مسلمان علماء اور آریوں کی پروا کی بلکہ انصاف کے تقاضے پر عمل کر کے حضرت اقدس کو لے دیکھئے بیان سپرنٹنڈنٹ پولیس مندرجہ ” کتاب البریہ صفحہ ۲۳۸-۲۳۹