حیات طیبہ — Page 85
85 سلسلہ کی بنیاد اور مصلح موعود کی پیدائش کے اجتماع میں مخفی اشارہ یہ ایک عجیب بات بلکہ خدائی حکمتوں میں سے ایک اہم حکمت ہے کہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ ء کو ہی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اصلح الموعود پیدا ہوئے اور اسی روز حضرت اقدس نے شرائط بیعت کا اعلان فرما کر سلسلہ کی بنیاد رکھی اور مخلصین کو بیعت کے لئے مدعو فرمایا۔ان دونوں باتوں کے اجتماع میں دراصل میخیفی اشارہ تھا کہ اس سلسلہ کی اشاعت میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کو اہم دخل ہوگا چنانچہ واقعات بھی نہایت صفائی سے گواہی دے چکے ہیں کہ یہ بات درست تھی اور کیوں درست نہ ہوتی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے مسیح کے لئے یہ پیشگوئی فرما چکے تھے کہ يَتزَوِّجُ وَيُولد ل یعنی وہ ایک اعلیٰ صفات رکھنے والی عورت سے شادی کرے گا اور اس کی اولا داہم دینی کارنامے سرانجام دیگی۔“ یادر ہے کہ یہاں کسی عام عورت کے ساتھ شادی اور کسی عام اولاد کے پیدا ہونے کی طرف اشارہ مراد نہیں تھا کیونکہ اس ذکر سے کوئی فائدہ متصور نہیں ہو سکتا۔خصوصا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان نبی پیشگوئی کرے اور پھر حضرت اقدس بھی ہر بچہ کی پیدائش سے قبل اس کی صفات خاصہ کا عام اعلان فرما دیں اور ایک لڑکے کو اہم بشارات کا حامل قرار دیکر بار بار اس کی تعریف و توصیف کریں ! یہ سارے امور بتاتے ہیں کہ مسیح موعود کی اولا دکو اشاعت دین میں اہم کار ہائے نمایاں انجام دینا ہو گا۔سوالحمد للہ کہ وہ ایسا کر رہی ہے۔لودھیانہ اور ہوشیار پور کا سفر حضرت اقدس ۱۸۸۹ء کے شروع میں لدھیانہ تشریف لے گئے اور ایک اشتہار کے ذریعہ احباب میں اعلان فرمایا کہ: تاریخ ہذا سے جو ۴/ مارچ ۱۸۸۹ء ہے ۲۵ / مارچ تک یہ عاجز لودھیانہ میں مقیم ہے۔اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لودھیانہ میں ۱۰ار تاریخ کے بعد آجاویں اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہو جائے۔ے چنانچہ حضور فرماتے ہیں کہ ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے۔تین اُن میں سے تو آم کے تھے مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔وہ اس جہاں کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے“ مکتوب ۸/جون ۸۸۶ ا بنام حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ خلیفہ امسیح اول از مکتوبات احمد جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۶ ، حاشیہ اشتہار ۴ مارچ ۱۸۸۹ء